ایران کو جوہری معاہدے کے ثمرات کا انتظار

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, لز ڈوسٹ
- عہدہ, نامہ نگار بین الاقوامی امور، بی بی سی
ایران کے دارالحکومت کے ایک مشہور ہوٹل میں ملازم جھنڈے بدلنے میں مصروف ہیں۔
جب ہم سنیچر کی صبح ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ یورپی یونین کے سب سے بڑے وفد کے ہمراہ تہران پہنچے، تو ہوٹل کی لابی میں ایک میز پر للی کے گلابی پھول مہک رہے تھے اور ان کے سامنے 12 نیلے ستاروں والا یورپ کا جھنڈا ایران کے تین رنگوں والے جھنڈا کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔
دوپہر کے وقت انڈیا کے وزیرِ خارجہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے انڈیا کا جھنڈا بھی جگہ بنا رہا تھا۔ اور کے ساتھ ہی ماسکو سے آنے والے روس کے تجارتی وفد کا خیر مقدم کرنے کے لیے روس کا جھنڈا بھی تیار تھا۔
دوپہر کے کھانے کے وقت ایک غیر متوقع دھن بجی، امریکی ترانے کی دھن، اور اس کے ساتھ ہی امریکی جھنڈا بھی نظر آیا۔
اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے تین ماہ، اور تاریخی جوہری معاہدے کے ایک سال بعد، جس نے ایران کے دروازے بیرونی دنیا پر کھول دیے ہیں تہران میں آپ کو خوش آمدید۔
لیکن ایران کے شاندار ورثے اور مہمان نوازی کا مزا لینے کے لیے آنے والے تعداد میں ذرا کم مگر پھر بھی آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے امریکی سیاحوں کے علاوہ، امریکی کاروبار اور اہلکار ابھی بھی دور ہی رہ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
ایران میں ان کی سرگرمیاں ابھی امریکی اقتصادی پابندیوں سے متاثر ہیں اور یہ پابندیاں صرف کانگریس ہی اٹھا سکتی ہے۔ انھیں اٹھائے جانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور اس سے معاملات اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی سات کمشنروں کے وفد کے ساتھ ایران کی وزارتِ خارجہ کی خوبصورت عمارت میں داخل ہوئیں تو انھوں نے یورپ اور ایران کے تعلقات کا باب بدلنے کی بات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے مسکراتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے ’نئے آغاز‘ کو خوش آمدید کہا۔
لیکن پرہجوم نیوز کانفرنس میں ایرانی صحافی امریکی بینکنگ کے شعبے کی طرف سے حائل کی گئی رکاوٹوں کے متعلق پوچھتے رہے جن سے عام لوگوں کے بین الاقوامی بینک ٹرانسفر سے لے کر مالیاتی معاہدوں کی تلاش میں ممکنہ سرمایہ کار متاثر ہو رہے ہیں۔
موگرینی صحافیوں کو یقین دلاتی ہیں کہ ’یورپ کی بھی اس میں ایران جتنی دلچسپی ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے۔‘
یورپی یونین کے اقتصادی پابندیوں کے ایک سرکردہ ماہر نے مجھے بتایا کہ یورپی کمپنیوں کو پابندیوں کے حوالے سے لگائے جانے والے جرمانے کے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن یورپ کے اہم بینک اور تجارتی ادارے، خصوصاً وہ جن کے کسی بھی قسم کے امریکہ کے ساتھ روابط ہیں پریشان ہیں، انھیں خوف ہے کہ وہ نادانستہ طور قوانین کے باقی رہ جانے والے جال میں پھنس جائیں گے۔
دہشت گردی کی حمایت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، اور بیلسٹک میزائل کے پروگرام کے متعلق تشویش کے الزامات کی وجہ سے لگائی گئی پابندیاں ابھی بھی موجود ہیں۔
جواد ظریف نے کہا کہ ’ایران اور یورپی یونین غیر امریکی بینکوں کے ایران کے ساتھ تعاون کر راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ پر دباؤ نہیں ڈالیں گے۔‘
کہا جا رہا ہے کہ مس موگرینی نے مسئلہ صدر اوباما کے ساتھ بھی اٹھایا تھا۔ اور ایک سینیئر یورپی یونین کے اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ اس معاملے پر رابطے میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی اہلکار جنھوں نے ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کیا ہے اچھی طرح ایران کی معاہدے سے متعلق اقتصادی ثمرات حاصل کرنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بضد ہیں کہ انھوں نے معاہدے کا پاس رکھا ہے۔ ان پر رپبلکن قانون سازوں کا دباؤ بھی ہے جو سرے ہی سے معاہدے کے خلاف ہیں۔
ان سرمایہ کاروں کے لیے جو ایران کی آٹھ کروڑ آبادی کی مضبوط مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ایک اور مسئلہ ایران کا مبہم نظام بھی ہے۔
جب جواد ظریف میرے اور مس موگرینی کے وفد کے ساتھ آنے والے تین دوسرے صحافیوں کے ساتھ بیٹھے تو انھوں نے اس بات کی سرے سے تردید کی ایران کی آدھے سے زیادہ معیشت وہ ادارے چلاتے ہیں جن کا تعلق سیاسی طور پر با اثر تنظیموں سے ہے جن میں پاسدارانِ انقلاب بھی شامل ہیں جن پر یورپی یونین اور امریکہ نے پابندیاں لگائی رکھی ہیں۔
ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ تیل سے لے کر ٹیلی کام تک کی صنعتوں میں گھسے ہوئے ہیں۔
جواد ظریف کہتے ہیں کہ ایران منی لانڈرنگ اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔
ایران میں سنی جانے والی زیادہ تر گفتگو میں میں نے محسوس کیا کہ امید کا دامن ابھی بھی نہیں چھوٹا۔







