عراقی افواج نے ’ہٹ قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا‘

،تصویر کا ذریعہAP
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے طویل لڑائی کے بعد اہمیت کے حامل قصبے ہٹ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
عراقی فوج کے مطابق ایلیٹ کاؤنٹر ٹیرارزم سروس (سی ٹی ایس) کے یونٹس نے قصبے ہٹ کو ’مکمل طور پر‘ آزاد کروا لیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے عراق کے صوبے انبار کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مارچ کے وسط میں اس قصبے پر حملہ شروع کیا تھا۔
ہٹ قصبہ عراق اور شام کے علاقوں پر قابض دولتِ اسلامیہ کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔
عراق کے فوجی حکام اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کو یقین ہے کہ انھوں نے دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقعہ ہٹ قصبے کو 150 کلو میٹر تک کلیئر کروا لیا ہے۔
ایلیٹ کاؤنٹر ٹیرارزم سروس (سی ٹی ایس) کے ترجمان صباح النعمانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عراقی افواج نے ہٹ قصبے پر جمعرات کو مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
سی ٹی ایس کے کمانڈر جنرل عبدل غنی اسدی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ عراقی اور اتحادی افواج کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی افواج کے طیاروں نے بدھ کی رات دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر فضائی حملے کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل اسدی کے مطابق انھوں نے ریڈیو کی پکڑی جانے والے نشریات میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو کہتے ہوئے سنا ’یہ ہمارا ہیڈ کوارٹر ہے اور ہم اس علاقے کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
عراقی افواج کی جانب سے گذشتہ ماہ قصبے ہٹ پر دوبارہ قبضے کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران 20,000 سے شہری وہاں سے بھاگ گئے تھے تاہم یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔







