’دولتِ اسلامیہ نے عراق میں مسٹرڈ گیس استعمال کی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی سطح پر کیمیائی مادوں کے استعمال پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس عراق میں کرد فوسرز کے خلاف ایک حملے کے دوران سلفر مسٹرڈ کا استعمال کیا۔
کیمائی ہتھیاروں کے استمعال کو روکنے والی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے اگست میں اربل کے قریب بیمار پڑنے والے پیشمرگا 35 جنگجوؤں کے خون کے نمونے بھجوائے گئے تھے۔ پیر کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ان نمونوں میں سلفر مسٹرڈ گیس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔
اگر اس بات کی تصدیق ہو گئی تو صدام حسین کی معزولی کے بعد یہ کیمیائی ہتھیاروں کے استمعال کا پہلا دریافت شدہ واقعہ ہوگا۔
حال ہی میں تنظیم کے ماہرین نے کہا تھا کہ اگست میں ہمسایہ ملک شام میں دولتِ اسلامیہ اور باغیوں میں لڑائی کے دوران بھی سلفر مسٹرڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔
سلفر مسٹرڈ کو عام طور پر ’مسٹرڈ گیس‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ مائع حالت میں ہوتی ہے اور اس میں پائے جانے والے اجزا جلن کا باعث بنتے ہیں اور اس سے جلد، آنکھوں اور سانس لینے کے نظام کے ساتھ ساتھ اندرونی اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔
ادارے نے 11 اگست کو عراق میں ہونے والے ان حملوں کے ذمہ داروں کا نام نہیں لیا لیکن جب یہ حملے ہوئے اس وقت کردستان کی مقامی حکومت نے کہا تھا کہ یہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
مقامی حکومت کے مطابق متاثر ہونے والے جنگجو دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے صفِ اول کے جنگجو تھے اور مخمور اور گویر کے قصبوں میں ان کے قریب کم سے کم 37 راؤنڈ آ کر پھٹے جن سے سفید گرد اور سیاہ مادہ خارج ہوا۔ ان کے خون کے نمونوں سے ظاہر ہوا کہ مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔
تنظیم کے ترجمان ملک الٰہی کے مطابق معاملے کی تفتیش میں عراقی حکومت کی مدد کے لیے ماہرین کو عراق بھیجا گیا ہے جس کے بعد ہی اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین اب بھی اس بارے میں شکوک کا شکار ہیں کہ آیا دولتِ اسلامیہ کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں یا نہیں۔ اس معاملے پر تنظیم کے اجلاس میں اگلے ماہ بات کی جائے گی۔







