برسلز ایئرپورٹ پر پروازوں کی بحالی

،تصویر کا ذریعہAP
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں خودکش بم حملوں میں نشانہ بنائے جانے والے زاوینتیم ایئر پورٹ سے ’علامتی‘ پروازوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ ہوائی اڈہ 12 دن قبل دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
شیڈیول میں موجود تین پروازوں میں سے پہلی پرواز گرینج کے وقت کے مطابق صبح 11 بجکر 40 منٹ پر پرتگال کے لیے روانہ ہوئی۔ جبکہ دیگر دو فلائٹس میں سے ایک کو اٹلی اور دوسری کو ایتھنز کے لیے روانہ ہونا ہے۔
چیک ان کرنے کے بعد اور طیارے میں سوار ہونے سے پہلے بھی مسافروں کو سکرینگ کے مرحلے سے گزارا گیا۔
برسلز ایئرپورٹ کو بند کرنے پر یومیہ 50 لاکھ ڈالر سے زائد خرچ آیا ہے۔
اتوار کو مسافروں کو پرواز کے آغاز سے تین گھنٹے قبل بلایا گیا تھا۔ وہ صرف کار اور ٹیکسی کے ذریعے ہی ایئرپورٹ آسکتے تھے تاہم ٹرمینل اب بھی بند ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے چیف ایگزیکٹیو چیف ایگزیکٹو آرناد فیسٹ نے سنیچر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ پروازیں امید کی پہلی علامت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA
نئے سکیورٹی انتظامات کے تحت روانہ ہونے والے مسافروں کی سکریننگ کی جائے گئی۔ نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اضافی چیکنگ بھی کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ 22 مارچ کو برسلز کے زاوینتیم ایئر پورٹ پر ہونے والے دو خودکش دھماکوں کے بعد اسے پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
ان دھماکوں کے نتیجے میں حکام کے مطابق 11 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
جمعرات کو ایئرپورٹ کی جزوی بحالی کے اعلان سے قبل زاوینتیم ایئرپورٹ پر ایک عارضی نظام کے کئی دن تک تجربات کیےجاتے رہے۔
ایئرپورٹ حکام کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’برسلز ایئرپورٹ کمپنی نے مسافر پروازوں کے جزوی آغاز کا فیصلہ آگ بجھانے والے ادارے اور بیلجیئم سول ایوی ایشن کے حکام کی اجازت کے بعد کیا ہے۔‘
بیان کےمطابق عارضی نظام کے تحت ایک گھنٹے میں 800 مسافروں کی تصدیق کی جا سکتی ہے جبکہ عام دنوں میں کام کرنے والا نظام اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کام کرتا تھا۔
ادھر برسلز ایئرپورٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملوں سے قبل ہی ایئرپورٹ کی سکیورٹی پر تنقید کی تھی۔
پولیس نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے وی آر ٹی پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں روزانہ کی بنیادوں پر خبردار کرتے رہے تھے۔
پولیس نے شکایت کی ہے کہ ’ایئرپورٹ پر مسافروں اور ان کے سامان کی چیکنگ کے لیے ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے لے کر ان کی جامہ تلاشی تک کوئی سکیورٹی کنٹرول موجود نہیں تھا۔‘
پولیس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ایئرپورٹ کے کئی ملازمین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے تھے۔
پولیس ابھی تک ایئرپورٹ دھماکوں میں ملوث تیسرے شخص کی تلاش میں ہے۔







