بوکو حرام نے اغوا کیا، مشتبہ خودکش بمبار کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہEPA
کیمرون اور نائجیریا کے حکام ایک لڑکی کی جانب سے کیے جانے والےدعوے کی تحقیق کر رہے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2014 میں اغوا ہونے والی لڑکیوں کے گروہ میں شامل تھیں اور وہ مستقبل کی خودکش بمبار ہیں۔
نائجیریا کی حکومت اس لڑکی کے والدین کے پاس کیمرون بھجوا رہی ہے تاکہ وہ اس کی شناخت کر سکیں۔
لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ چیبوک سے اپنی 270 ساتھیوں کے ہمراہ اغوا ہوئی تھی اور انھیں بوکو حرام نامی جہادی گروہ نے اغوا کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ان بچوں کی بازیابی کے لیے مہم بھی چلی تھی۔
ان لڑکیوں میں سے 50 فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھیں تاہم باقی 219 لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ جمعے کو کیمرون سے دھماکہ خیز مواد کے ہمراہ گرفتار ہونے والی دو لڑکیوں میں سے ایک نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ لاپتہ چیبوک لڑکی ہے۔
ان لڑکیوں کو نائجیریا کی سرحد کے قریب لیمانی نامی علاقے سے مقامی محافظوں نے گرفتار کیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں اس علاقے کو بہت سے خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔

نائجیریا کے صدر بوہاری کے ترجمان گربا شیہو نے ٹامسن رائٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ گرفتار کی جانے والی لڑکی کی شناخت ممکن ہو جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ لڑکی سے تحقیقات میں مدد مل سکے گی۔
لاپتہ بچیوں کی بازیابی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے سربراہ یعقوبو نکیکی اور تنظیم کی خاتون لیڈر یانا گلانگ شامل ہیں۔ جن کی 16 سالہ بیٹی لاپتہ لڑکیوں میں شامل ہے۔







