شامی فوج کا پیلمائرا کے قدیم شہر پر قبضے کا دعویٰ

یہ آثارِ قدیمہ عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ آثارِ قدیمہ عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں

شام میں حکومتی فورسز پیلمائرا کے قدیم شہر میں داخل ہو گئی ہیں جس پر گذشتہ سال نام نہاد دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے شامی افواج کے پیلمائرا میں داخل ہونے کی اطلاع دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام کے حالات پر نظر رکھنے والے ایک مبصر گروپ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیلمائرا شہر کے مضافات میں لڑائی جاری ہے۔

روس کے فضائی حملوں کی مدد سے شام کی سرکاری افواج نے پیلمائرا پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے گذشتہ مہینے زمینی کارروائی شروع کی تھی۔

پیلمائرا کا شہر دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیر الزور کے درمیان دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم علاقے میں واقع ہے۔

پیلمائرا کے کھنڈرات دو ہزار سال قدیم ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیلمائرا کے کھنڈرات دو ہزار سال قدیم ہیں

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے یونسکو کی طرف سے عالمی ورثے قرار دیے جانے والے قدیم شہر پیلمائرا اور اس کے قریب جدید شہر پر گذشتہ سال مئی میں قبضہ کیا تھا۔

ان آثار قدیمہ پر قبضہ کرنے کے بعد شدت پسندوں نے دو ہزار سال پرانی عبادت گاہ، ایک مہراب اور ایک مینار کو تباہ کر دیا تھا جس پر دنیا بھر نے شدید تنقید کی تھی۔

اس انتہا پسند جہادی گروپ نے ہمسایہ ملک عراق میں بھی قبل از اسلام کے دور سے تعلق رکھنے والے کئی آثار کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ بدت کی نشانیاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونسکو نے پیلمائرا کے آثار کو نقصان پہنچانے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

سرکاری نیوز چینل الاخباریہ کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز شہر کے مغرب میں ایک ڈسٹرک پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ لیکن آزاد ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔