شامی فوج پیلمائرا کے مضافات تک پہنچ گئی

پیلمائرا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیلمائرا کی کئی تاریخی جگہوں کو دولتِ اسلامیہ نے پہلے ہی تباہ کر دیا ہے

اطلاعات کے مطابق شام کی سرکاری فوجیں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پسپا کرتے ہوئے قدیم شہر پیلمائرا کے مضافات تک پہنچ گئی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے سرگرداں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مبصر گروپ کا کہنا ہے کہ شامی افواج یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کھنڈرات سے صرف دو کلومیٹر جنوب میں ہیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اِس علاقے اور اِس سے ملحقہ جدید شہر پر گذشتہ سال مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔

علاقے پر قابض ہونے کے بعد مسلح جنگجوؤں نے دو ہزار سال قدیم معبد، محراب اور مینار تباہ کر دیے تھے، جس کے باعث عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اِس طرز کی تعمیرات بت پرستی ہیں۔ اُنھوں نے پڑوسی ملک عراق میں بھی اسلام سے قبل بننے والی کئی عالمی شہرت یافتہ جگہوں کو تباہ کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے تباہی کی مذمت کرتے ہوئے اِس عمل کو جنگی جرائم قرار دیا تھا۔

’مسلسل پیش رفت‘

شامی مبصر گروپ کی معلومات کا انحصار میدان جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے نیٹ ورک پر ہے۔ اُس نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بدھ کو سرکاری فوجیں پیلمائرا کے جنوبی مضافات سے صرف دو کلومیٹر اور اُس کے مغربی کنارے سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

حمص کے گورنر طلال بارازئی نے پیش قدمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کئی پہاڑوں پر فوجی تعینات ہیں، جو قدیم یونانی اور رومی تعمیرات کی تباہی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اُن کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ’فوج ہر جانب سے مسلسل پیش قدمی کر رہی ہے۔‘

بارازئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران ’مثبت نتائج‘ کی اُمید ہے۔

اِس مہینے کے آغاز میں شام کی سرکاری فورسز کی جانب سے پیلمائرا کو واپس لینے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا، جس کو روسی فضائیہ کی مدد حاصل تھی۔

گذشتہ ہفتے روسی فوج نے کہا تھا کہ پیلمائرا کو جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اُس کے جہاز ایک روز کے دوران 25 مرتبہ تک پروازیں کرتے ہیں۔ جس کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے ’دنیا کی تہذیب کے موتی‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔

پیلمائرا دفاعی اہمیت کا حامل شہر بھی ہے۔ یہ دارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیر الزور کی درمیانی سڑک پر واقع ہے۔