خواتین کے عملے کے ساتھ سعودی عرب تک پرواز

،تصویر کا ذریعہRoyalBruneiAirlines Instagram
برونائی کی سرکاری فضائی کمپنی رائل برونائی ایئرلائنز کے خواتین پر مشتمل عملے نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی پہلی پرواز سعودی عرب تک کی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔
ان خواتین پائلٹوں نے برونائی سے سعودی عرب کے شہر جدہ تک پرواز کی اور اس کے لیے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ استعمال کیا گیا۔
یہ سنگ میل انھوں نے برونائی کے قومی دن کے موقعے پر حاصل کیا جب ملک کی آزادی کا جشن منایا جا رہا تھا۔
اس پرواز کی کپتان شریفہ زرینہ تھیں جبکہ ان کی معاونت سینیئر فرسٹ آفیسرز سریانہ نوردین اور ڈی کے نادیہ پی جی خشیم نے کی۔
کپٹن زرینہ نے ہوابازی کی تربیت برطانیہ سے حاصل کی تھی اور دسمبر 2013 میں وہ لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی پرواز کرنے والی رائل برونائی ایئرلائنز کی پہلی پائلٹ بن گئی تھیں۔
انھوں نے سنہ 2012 میں اخبار دی برونائی ٹائمز کو بتایا تھا کہ ’بہت سے لوگ پائلٹ کو مردوں کا پیشہ سمجھتے ہیں۔ ایک عورت، ایک برونائائی کی عورت ہونے کے ناطے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ نوجوان نسل یا خاص طور پر لڑکیوں کو دکھاتا ہے کہ جو خواب وہ دیکھتی ہیں اس کی تعبیر پا سکتی ہیں۔‘
خیال رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب میں تکنیکی بنیادوں پر خواتین کا گاڑی چلانا غیرقانونی نہیں ہے، تاہم ڈرائیونگ لائسنس صرف مردوں کو دیے جاتے ہیں اور وہ خواتین جو ڈرائیونگ کرتی ہیں انھیں پولیس کی جانب سے جرمانے اور حراست میں لیے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب میں خواتین نے کئی ایسی مہمات کا آغاز کیا ہے جن میں اس پابندی میں نرمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسی مہم جاری ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب نے پہلی مرتبہ میونسپل انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی جس میں کل 978 خواتین نے بطور امیدوار شرکت کی تھی جبکہ مرد امیدواروں کی تعداد 5,938 تھی۔
خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت سابق سعودی حکمراں شاہ عبداللہ کی جانب سے دی گئی تھی۔







