خواتین کے عملے کے ساتھ دنیا کی طویل ترین پرواز

،تصویر کا ذریعہAir India
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا مگر ہوابازی کے شعبے میں جہاں اب تک خواتین کی موجودگی بہت کم تھی اس بار خواتین کے عالمی دن کو مختلف طریقے سے منایا گیا۔
بھارتی قومی فضائی کمپنی کے صرف خواتین کے عملے نے دارالحکومت نئی دہلی سے امریکی شہر سان فرانسسکو تک پرواز کی۔
پرواز اے آئی 73 کی کپتان کشامتا باجپائی اور سوبھانگی سنگھ تھیں جن کے ساتھ شریک عملے میں شامل پائلٹ، کیبن کا عملہ، چیک ان عملہ، گراؤنڈ پر عملہ، ڈاکٹر سب خواتین تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAir India
ایئر انڈیا کی پرواز کے لیے بوئنگ سیون ایٹ سیون طیارہ استعمال کیا گیا تھا جو خواتین کے عملے کے ساتھ دنیا کی طویل ترین پرواز تھی۔
یہ پرواز چھ مارچ کو دہلی سے روانہ ہوئی اور اس نے 17 گھنٹوں میں 14,500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور 8 مارچ کو دہلی کے لیے واپس روانہ ہوئی۔
ایئر انڈیا نے اس کے علاوہ دہلی سے سڈنی اور دہلی سے لندن کے روٹ پر بھی صرف خواتین کے عملے پر مشتمل پروازیں روانہ کیں اور درجن سے زائد اندرون ملک پروازوں پر بھی سارا عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔

،تصویر کا ذریعہLufthansa
اس کے علاوہ فضائی کمپنی لفتھانسا کے زیرِ انتظام فضائی کمپنیوں سوئس، برسلز ایئر لائنز، آسٹریئن ایئرلائنز نے تمام خواتین کے عملے پر مشتمل پروازوں کا اہتمام کیا۔
سوئس فضائی کمپنی سوئس ایئر کی پرواز ایل ایکس 22 پر تمام عملہ خواتین پر مشتمل تھا جو جینیوا سے نیو یارک کے لیے تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پرواز کے لیے ایئر بس A330 طیارہ استعمال کیا گیا۔
لفتھانسا نے اپنے بوئنگ سیون فور سیون طیارے کا انتظام خواتین کے ہاتھ میں دیا جو ایل ایچ 400 پر فرینکفرٹ سے نیو یارک پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہLufthansa
اس کے علاوہ لفتھانسا نے خواتین عملے کے ساتھ میونخ سے نیو یارک کی پرواز بھی چلائی۔
جبکہ برسلز ایئر لائنز کی پرواز ایس این 501 برسلز سے نیو یارک کپتان لوریٹا فرسٹ آفیسر سارہ کی کپتانی میں چلائی گئی۔
اسی طرح بھارتی فضائی کمپنی جیٹ ایئر ویز نے بھی دو پروازوں کا اہتمام کیا جبکہ سپائس جیٹ نے ایک پرواز کا اہتمام کیا جس کا سارا عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔







