بھارتی فضائیہ میں خواتین فائٹر پائلٹوں کی بھرتی شروع

بھارت کی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فضائیہ میں پہلی مرتبہ اس سال جون میں خواتین پائلٹس کو شامل کیا جائے گا۔

بھارت کی فضائیہ کی ترجمان اروپ رہا نے بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ تین خواتین پائلٹس اس سال جون میں اپنی تربیت مکمل کر لیں گی اور انھیں باقاعدہ فضائیہ میں شامل کر لیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ بھارتی صدر پرنب مکھر جی نے اعلان کیا تھا کہ لڑکیوں کو مسلح افواج کے تمام شعبوں بشمول لڑاکا دستوں میں بھی شامل کیا جائے گا۔

فی الوقت بھارت کی مسلح افواج میں خواتین کا تناسب صرف اڑھائی فیصد ہے اور یہ بھی ایسے شعبوں تک محدود ہے جن کی جنگ یا لڑائی سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔

فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سنہ انیس سو اکانوے میں خواتین پائلٹوں کو فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا لیکن وہ صرف ہیلی کاپٹر اور مال بردار جہاز کی تربیت رکھتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ وزیر دفاع کے شکر گزار ہیں کہ انھیں لڑاکا طیارے اڑنے کے لیے بھی خواتین کو تربیت دینے کی اجازت دی۔

انھوں نے کہا کہ اب صرف تین خواتین ایسی ہیں جنھوں نے جنگی طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے سنہ دو ہزار چودہ میں خواتین کو فائٹر پائلٹوں کے طور پر بھرتی کرنے کے بارے میں اپنے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین اپنی جسمانی طاقت کی وجہ سے اس قابل نہیں ہوتیں کہ وہ کئی گھنٹوں تک مسلسل لڑاکا طیارے اڑا سکیں اور خاص طور پر جب وہ زچگی کی حالت میں ہوں یا دوسری طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوں۔

لیکن اکتوبر میں انھوں نے اپنا موقف بدل لیا اور کہا کہ بھارتی خواتین کی خواہشات کے پیش نظر بھارتی فضائیہ میں لڑاکا طیارے اڑانے کے لیے خواتین پائلٹوں بھرتی کرنے کا سوچ رہی ہے۔

ہمسایہ ملک پاکستان میں سنہ دو ہزار چھ سے خواتین لڑاکا پائلٹوں بھرتی ہو رہی ہیں اور اس وقت کم از کم بیس خواتین پائلٹ پاکستان فضائیہ میں شامل ہیں۔