پوتن کےسابق مشیر کی موت سر پر ’چوٹ لگنے‘ سے ہوئی

 میخال لیسن گذشتہ سال نومبر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن میخال لیسن گذشتہ سال نومبر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے

امریکہ میں حکام کے مطابق روسی صدر پوتن کی کابینہ کے سابق وزیر میخائل لیسن کی موت سر پر ’شدید چوٹ لگنے‘ سے ہوئی۔

پوسٹ مارٹم کے بعد واشنگٹن ڈی سی کے طبی سربراہ نے کہا کہ میخائل لیسن کے گلے، دھڑ، بازوؤں اور ٹانگوں پر بھی ضربوں کے نشانات ہیں۔

57 سالہ میخال لیسن گذشتہ سال نومبر میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈوپینٹ سرکل ہوٹل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

میخائل لیسن روس کے طاقتور میڈیا گروپ ’گیز پرام‘ کے سابق سربراہ اور ذرائع ابلاغ کے سابق وزیر رہ چکے تھے۔

ان کی موت کے بعد روسی ذرائع ابلاغ میں ان کے خاندان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ میخائل لیسن کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔

طبی معائنہ کرنے والے آفیسر کی جانب سے مزید معلومات نہیں دی گئیں۔

تاہم امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پولیس کے ترجمان دسٹن سٹرنبیک کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش جاری رہے گی۔

انھوں نے اس امر کی تردید کی کہ آیا پوسٹ مارٹم نتائج کا مطلب کسی جرم کو ظاہر کرتا ہے۔

میخائل لیسن ایک عرصے تک روس کے میڈیا اور اقتدار کے ایوانوں میں انتہائی با اثر شخصیت رہے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمیخائل لیسن ایک عرصے تک روس کے میڈیا اور اقتدار کے ایوانوں میں انتہائی با اثر شخصیت رہے تھے

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زہراکووا کا کہنا ہے کہ اب ماسکو کو توقع ہے کہ ’تفتیش کے عمل کے حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے وضاحت اور متعلقہ سرکاری معلومات فراہم کی جائیں گی۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2014 برس امریکی سینیٹر راجر وکر نے محکمہ انصاف کو خط لکھ کر میخائل لینس کے امریکہ میں اثاثوں کے بارے میں تحقیق کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیٹر راجر وکر نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ میخائل لیسن کی امریکہ میں تقریباً تین کروڑ ڈالر کی جائیداد ہے اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ ایک عام سرکاری ملازم اتنی قیمتی جائیداد کا مالک کیسے بنا۔

میخائل لیسن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ایک عرصے تک روس کے میڈیا اور اقتدار کے ایوانوں میں انتہائی با اثر شخصیت رہے تھے۔

سنہ 2004 سے لے کر 2009 تک وہ صدر پوتن کی حکومت کا حصہ رہے اور اسی دوران انھوں نے انگریزی زبان میں نشر ہونے والے روسی ٹی وی ’رشیا ٹو ڈے‘ کا آغاز بھی کیا۔

وہ سنہ 2014 میں ’گیز پرام‘ میڈیا گروپ کی سربراہی سے مستعفی ہوگئے تھے۔