سوڈان کی حزب مخالف کے رہنما حسن الترابی انتقال کرگئے

،تصویر کا ذریعہAFP

سوڈان میں حزب اختلاف کے رہنما اور صدر عمر البشیر کی اقتدار میں آنے میں مدد کرنے والے حسن الترابی 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ہسپتال ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ حسن الترابی کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔

سنہ 1989 میں جب عمر البشیر نے اقتدار سنبھالا تو حسن الترابیان کے اہم اتحادی تھے۔

سوڈان میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار کوپنل کا کہنا ہے کہ حسن الترابی سوڈان کی پرآشوب تاریخ میں انتہائی متنازع شخصیت رہے ہیں۔

عمر البشیر کےی حکومت کے پہلے دوس سالوں میں حسن الترابی ملک کے حقیقی رہنما رہے اور ان کا اثر سوڈان کی سرحدوں سے باہر بھی رہا۔

ان کے انتقال کا اعلان سوڈان کے سرکاری ٹی وی پر کیا گیا جس میں انھیں ’معروف اسلامی سوچ رکھنے والی‘ شخصیت کہا گیا۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کی جماعت نے بھی کی ہے۔

حسن الترابی مغربی سوڈان میں کسالا میں پیدا ہوئے اور وہ ایک مقامی امام کے بیٹے تھے۔ حسن الترابی پیرس اور لندن میں اپنی تعلیم مکمل کرنے سے قبل قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے خرطوم چلے گئے تھے۔