فرانس: کے لے کیمپ کو مسمار کرنے کا کام جاری

،تصویر کا ذریعہPA
فرانس کی بندرگاہ کے لے میں واقع ’جنگل‘ کے نام سے مشہور تارکینِ وطن کے کیمپ کو مسمار کرنے کا کام جاری ہے۔
تارکینِ وطن کے کیمپ کو خالی کروانے والی ٹیموں کو پیر کے مقابلے میں منگل کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ حکام کی جانب سے تارکینِ وطن کے کیمپ کو مسمار کرنے کے دوران پیر کو جھڑپیں ہوئی تھیں۔
فرانسیسی حکومت اس کیمپ کو ختم کرنے کے بعد استقبالیہ مراکز قائم کرکے تارکینِ وطن کو وہاں منتقل کرنا چاہتی ہے۔
فرانس کی پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ ان استقبالیہ مراکز میں منتقل نہ ہونے والے تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی ہو گی۔
تاہم تارکینِ وطن کو خدشہ ہے کہ فرانسیسی حکام ان سے زبردستی انگلیوں کے نشان حاصل کرنے اور انھیں فرانس میں ہی پناہ کی درخواست دینے پر مجبور کریں گے اور ان کا برطانیہ پہنچنے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔

فرانسیسی حکام کے خیال میں اس منصوبے سے ایک ہزار کے قریب تارکینِ وطن متاثر ہوں گے جبکہ وہاں کام کرنے والے رضاکاروں کے اندازوں کے مطابق یہاں رہنے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
کیمپ میں موجود بی بی سی کی اینا ہولیگن کا کہنا ہے کہ پولیس منگل کو تارکینِ وطن کے کیمپ میں حفاظتی ڈھال، لاٹھیوں، ہیلمٹ اور اشک آور گیس کے ہمراہ داخل ہوئی تاہم اسے زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کے مطابق کیمپ کو خالی کرانے والی ٹیموں نے بلڈوزرں کی مدد سے ملبے کو صاف کیا۔
اس کیمپ میں رہنے والے زیادہ تر تارکینِ وطن کا تعلق مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے ہے۔ یہ تارکینِ وطن رودبادِ انگلستان کو عبور کر کے غیرقانونی طور پر برطانیہ پہنچنے کی امید میں اکثر انسانی سمگلروں کا سہارا لیتے ہیں۔







