شام میں جنگ بندی اختتامِ ہفتہ سے، الیکشن 13 اپریل کو

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ اور روس نے اعلان کیا ہے کہ شام میں جنگ بندی کا معاہدہ 27 فروری کی شب 12 بجے سے نافذ العمل ہوگا۔
دونوں ممالک کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس جنگ بندی کا اطلاق دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری کارروائیوں پر نہیں ہوگا۔
ادھر شام کی حکومت نے ملک میں 13 اپریل کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
شام میں چار سال کے لیے پارلیمان کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ملک میں آخری بار سنہ 2012 میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔
12 فروری کو عالمی اور مشرقِ وسطی کی علاقائی طاقتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ شام میں جاری لڑائی ایک ہفتے کے اندر روک دی جائے گی لیکن گذشتہ جمعے کو وہ ڈیڈلائن گزر گئی تھی۔
شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔
ان پناہ گزینوں میں وہ ہزاروں افراد بھی ہیں جنھوں نے جان پر کھیل کر یورپ کا رخ کیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما کے دفتر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے صدر اوباما سے رابطے کی درخواست پر دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فون پر بات کی جس میں شام میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فون کال کے بعد ہی روس اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلان سامنے آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق ’شام کے تنازع سے متعلق ان فریقین پر ہوگا جنھوں نے اس کی شرائط کو تسلیم کیا ہے اور اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’دولتِ اسلامیہ، النصرہ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے دیگر گروپ اس کا حصہ نہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان گروہوں کے خلاف شام، روس اور امریکی قیادت میں اتحاد کی فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
روس اور امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں جو حکومت مخالف مسلح گروپ اس جنگ بندی کا حصہ بننا چاہتے ہیں انھیں 26 فروری کی دوپہر تک اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔
بیان میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رابطوں کے لیے ہاٹ لائن جبکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کے قیام کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے معاہدے کے نفاذ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر یہ نافد ہوتا ہے اور اس کی پاسداری کی جاتی ہے تو یہ جنگ بندی نہ صرف تشدد میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ اس کی وجہ سے محصور علاقوں میں مدد کے منتظر افراد تک امداد کی جلد فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔‘
خیال رہے کہ امریکہ اور روس شام کے تنازع میں مخالف فریقوں کے حامی ہیں اور روس شامی صدر بشار الاسد کا مضبوط حلیف ہے۔
صدر بشار الاسد نے سنیچر کو ایک ہسپانوی اخبار ال پیئس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں یہ ضمانت چاہیےکہ ’دہشت گرد‘ اسے اپنی صفیں مضبوط کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔







