شام کی لڑائی میں ولادی میر پوتن کی جیت؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, نامہ نگار سفارتی امور، بی بی سی
مغرب کی نظر میں ولادی میر پوتن نے شام کے جھگڑے میں الجھ کر اپنے آپ کو ایک سفارتی مصیبت میں مبتلا کر لیا ہے۔
ولادی میر پوتن کی مشرقی یوکرین میں فوجی کارروائی نےسرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے۔ روسی فوجوں کی نیٹو ممالک کی سرحدوں کے قریب روز بروز جارحانہ مشقوں نے یورپ کی اس سوچ پر شکوک بڑھا دیے ہیں کہ اب یورپ اور روس کےمابین تصادم کےامکانات ختم ہو چکے ہیں۔
نیٹو ممالک بھی باامرِمجبوری اپنی دفاعی اخراجات کو آہستہ آہستہ بڑھا رہے ہیں اور امریکہ بھی یورپ میں اپنی اگلی فوجی پوزیشنوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ یہ نیٹو ممالک کا رویہ ہی ہے جو اسے پھر سے فوجی تیاریوں پر مجبور کر رہا ہے۔ یہی روسی حکومت ہے جس کےبارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے ایجنٹوں کو لندن میں اپنے ایک مخالف کو زہر دینے کے لیے بھیجا جواپنے پیچھے تابکار زہر کے شواہد چھوڑ گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روس کم از کم ایک ہفتے پہلے تک شام کے مسئلے کے سفارتی حلے کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے تیار تھا۔ لیکن شام کی حکومتی افواج کی حلب شہر پر یلغار کے بعد بھی کی روس کا مدد برقرار رہ پائےگی؟ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ یہ روسی فضائی کارروائیوں ہی ہیں جن کی بدولت شامی افواج حلب پر دوبارہ قبضے کےلیے آگے بڑھ رہی ہیں۔
حلب پر بشار الاسد کی فوجوں کی یلغار ایک ایسے وقت پر شروع ہوئی ہے جب شام کے مسئلے کےسفارتی حل کے لیے ایک بار پھر کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ شاید یہی وقت ہے جب مغرب کو روس کے عزائم سے کلی طور پر واقفیت حاصل ہو جائے گی۔
شام کا مسئلہ انتہائی پیچدہ ہو چکا ہے اور کسی ایک فریق کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں ہم بات کر رہے ہیں عملی سیاست کی اور روس نے عملی سیاست میں یورپی ممالک کو ایک سبق دے دیا ہے کہ وہ کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
یورپ کی نظر میں شام کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے لیکن روس اس سے متفق نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام کی لڑائی میں روس نے ایک ایسے فریق کا انتخاب کیا جس کے پاس فوج بھی ہے اور حزب اللہ ملیشیا جیسے اتحادی بھی۔ روس نے شام میں اتنی فوجی قوت کا استعمال کیا جتنی اس کو ضرورت تھی۔ فوجی طاقت کے استعمال کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت تو ضرور لگا لیکن اب نتائج بالکل واضح ہیں۔
روس نے صدر بشار الاسد کو افواج کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد تاکہ وہ ملک کے بڑے حصوں پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھ سکے۔ اس ہدف کے حصوص کے لیے اس نے ترکی اور مشرق وسطیٰ کی مدد سے زندہ رہنے والے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر نشانہ بنایا لیکن اب وہ واضح طور پر جیت رہا ہے۔
اس کے برعکس مغربی ممالک اپنے تضادات میں جکڑے ہوئے ہیں اور کچھ ایسے گروہوں کی مدد کر رہے ہیں جو ان کی نظر میں معتدل ہیں۔ لیکن کیا وہ واقعی معتدل ہیں، یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
سب سے بڑا تضاد تو یہ ہے کہ شام میں امریکہ اور القاعدہ ایک طرف ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ مغرب شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن کیا اس کے علاقائی اتحادی، ترکی اور سعودی عرب بھی ایسا ہی چاہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ایسا یقیناً نہیں ہے اور وہ تو صرف بشار الاسد کی تباہی چاہتے ہیں۔ امریکہ کے علاقائی اتحادی یقینا دولت اسلامیہ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں لیکن ان کا دشمنِ اول بشار الاسد ہے۔
کردوں کا مسئلہ
کرد جنگجو علاقے میں مغرب ممالک کےسب سے موثر اتحادی تصور کیے جاتے ہیں لیکن ترکی انھیں اپنے لیےخطرہ محسوس کرتا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر کردوں کی حیثیت کو بڑھنے نہیں دینا چاہتا۔
لیکن ولادی میر پوتن کی زندگی بالکل سادہ ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ اسے اپنے مغربی ممالک کے حکمرانوں کی نسبت یہ فائدہ ہے کہ اسے فیصلے کرتے ہوئے عوامی رائے کا خیال نہیں کرنا پڑتا۔ جب روسی ایئرلائن کا طیارہ تباہ تو اسے ایسے کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو یورپی حکمرانوں کا مقدر بن سکتا تھا۔
روسی صدر صرف فوجی اہداف کوحاصل نہیں کر رہے بلکہ وہ عملی طور پر شام کو دو حصوں میں بانٹ رہے ہیں۔ ایک وہ ساحلی حصہ جو صدر بشار الاسد کی افواج کی قبضے میں ہے جبکہ ملک کا بڑا حصہ دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس صورت میں مغرب کے پاس کیا راستے ہیں؟ روس نے ثابت کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تناظر میں وہ آج بھی ایک طاقت ہے۔ روس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ محدود ہی سہی لیکن موثر فوجی طاقت کا مالک ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ شام میں ولادی میر پوتن کی ایک طرح کی جیت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی یہ جیت کب تک برقرار رہ پائے گی۔
روس کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کمی جوجہ سے اس کی آمدن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور کیا وہ اپنے آپ کو سوویت یونین کے دور میں لے جانے کا خطرہ مول لے گا؟
لیکن یہ بھی واضح ہے کہ روس کی کامیابیوں کے باوجود شام میں لڑائی جاری رہے گی اور نام نہاد معتدل جنگجو شامی افواج اور دولت اسلامیہ کے درمیان پھنسے رہیں گے۔ کردوں کا مسئلہ بھی سر اٹھاتا رہے گا اور مہاجرین کا یورپ کی طرف سفر بھی جاری رہے گا۔
ان حالات میں پوتن جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور بظاہر وہ سب کچھ حاصل کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔







