میکسیکو کی جیل میں قیدیوں کی لڑائی میں 49 ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ اب جیل پر مکمل طور پر کنٹرول ہے اور حالات پر قابو پایا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ اب جیل پر مکمل طور پر کنٹرول ہے اور حالات پر قابو پایا جا چکا ہے

میکسیکو کے شمال میں مونٹیری کے قریب ایک جیل میں قیدیوں کے دو حریف گروہوں کے درمیان زبردست لڑائی میں 49 قیدی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

نوئیو لیون صوبے کے گورنر جیم روڈرز کا کہنا کہ ٹوپوچیکو جیل میں جو بارہ قیدی زخمی ہوئے ہیں ان میں سے پانچ کی حالات کافی نازک ہے۔

ان کے مطابق قیدیوں کے جن دوگروپ میں لڑائی ہوئی انھوں نے ایک دوسرے پر دھار دار ہتھیار، بلّوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔

صوبے کے گورنر نے اپنے پہلے بیان میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی تعداد 52 بتائی تھی لیکن اس کے بعد اسے 49 بتایا گیا جس میں سے اب تک کے 40 کی شناخت کر لی گئی ہے۔

جیل میں قیدیوں کے درمیان اس طرح کی سخت لڑائی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس شمالی میکسیکو کے ایک قید خانے کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں منشیات میں ملوث مافیاؤں کے درمیان اکثر تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد دوسرے قید خانوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بعض قیدیوں کو دوسری جیلوں کو منتقل کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس واقعے کے بعد دوسرے قید خانوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بعض قیدیوں کو دوسری جیلوں کو منتقل کیا گیا ہے

مسٹر روڈرز کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے دونوں حریف فریقوں میں لڑائی تقریبا آدھی رات کو شروع ہوئی اور 30 سے 40 منٹ تک جاری رہی ہے جس کے دوران ان قیدیوں نے جیل کے ایک سٹور خانے کو بھی آگ لگانی کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے سبھی مرد ہیں۔

ان کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد دوسرے قید خانوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بعض قیدیوں کو دوسری جیلوں کو منتقل کیا گیا ہے۔

اس دوران قیدیوں کے اہل خانہ بھی خبر سن کر جیل پہنچے اور انھوں نے حکام سے اپنے لواحقین کے متعلق دریافت کیا لیکن جب انھیں اطمینان بخش معلومات نہیں ملیں تو انھوں نے بھی بطور احتجاج جیل کے باہر راستوں کو بلاک کیا۔

قیدیوں کے اہل خانہ بھی جیل پہنچے اور انہوں نے اپنے لواحقین کے متعلق دریافت کیا لیکن جب انہیں اطمنان بخش معلومات نہیں ملیں تو انہوں نے جیل کے باہر راستوں کو بلاک کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقیدیوں کے اہل خانہ بھی جیل پہنچے اور انہوں نے اپنے لواحقین کے متعلق دریافت کیا لیکن جب انہیں اطمنان بخش معلومات نہیں ملیں تو انہوں نے جیل کے باہر راستوں کو بلاک کیا

قیدیوں کے اہل خانہ جیل کی طرف جانا چاہتے تھے لیکن جب انھیں روکا گیا تو ان میں سے بعض نے پتھر پھینکے۔

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ اب جیل پر مکمل طور پر قابو پایا جا چکا ہے۔