’پدری چھٹی‘ کے حمایتی جاپانی رکن پالیمان مستعفی

،تصویر کا ذریعہKensuke Miyazaki
ایک جاپانی رکن پالیمان جنھوں نے پدری چھٹیوں کے حوالے سے ملک گیر بحث چھیڑی تھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے اس وقت کسی کے ساتھ مراسم تھے جب ان کی اہلیہ بچے کو جنم دینے والی تھیں۔
پدری چھٹیاں وہ چھٹیاں ہیں جو کسی ایسے مرد کو ملتی ہیں جب ان کی اہلیہ بچہ جنم دینے والی ہوں۔
کنسوک میازکی نے نیوز کانفرنس کے دوران پدری رخصت پر بحث شروع کرنے بھی معذرت کی اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
کنسوک میازکی گذشتہ ماہ موضوع بحث رہے تھے جب وہ جاپان میں پدری چھٹیوں کی درخواست کرنے والے پہلے مرد رکن پارلیمان بنے تھے۔
انھوں لوگوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں یہ اپنے فرائض کو نظرانداز کرنا تھا۔
جاپانی اخبار شوکان بنشن نے ایک ہفتہ قبل کنسوک میازکی کی ایک خاتون کے ساتھ تصویر شائع کی تھی جس میں خاتون کیوتو میں ان کے گھر سے باہر نکل رہی تھیں، اس خاتون کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ ماڈل اور پیشہ ور فیشن ڈیزائنر ہیں۔
اخبار کے مطابق یہ تصویر کنسوک میازکی کی اہلیہ اور سیاست دان میگمی کینکو کے پانچ فروری کو بچہ جنم دینے کے چند روز پہلے کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ کنسوک میازکی اور کینیکو دونوں حکمراں لیبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن ہیں۔
جمعے کو کنسوک میازکی نے ان مراسم کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ بطور رکن پارلیمان اپنی نشست چھوڑ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ ایک خاتون سے ملے جس نے ان کی اور دیگر قانون سازوں کی چار جنوری کو جاپان کی پارلیمان کے افتتاح کے موقعے پر روایتی کمونو لباس کے انتخاب میں مدد کی۔

،تصویر کا ذریعہAP
کنسوک میازکی نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں (اس کے بعد) ان سے تین بار ملا۔ آخری بار میں نے انھیں کیوتو میں دیکھا۔ ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں۔‘
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں نے اپنی بیوی کو ساری تفصیلات بتا دی ہیں۔ مجھے اس کے ساتھ بچہ جنم دینے کے فوراً بعد اس کے ساتھ ایسا ظلم کرنے پر سخت پچھتاوا ہے۔۔۔ میں تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے کسی خاتون کے ساتھ مراسم ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ اس کی تردید نہیں کر سکتے۔
خیال رہے کہ کنسوک میازکی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ پدری چھٹیاں چاہتے ہیں تاکہ ’وہ ایک مثال قائم کر سکیں اور تھوڑی بہت ہلچل۔‘
اس بیان پر ہلچل ضروری ہوئی اور کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک منتخب قانون ساز کا فرض ہے کہ وہ عوام کی خدمت جاری رکھے۔







