میانمار میں لینڈ سلائیڈنگ، ’درجنوں افراد لاپتہ‘

جیڈ یا فیروزے کی کانوں والے زیادہ تر علاقے چاند کی سطح جیسے ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیڈ یا فیروزے کی کانوں والے زیادہ تر علاقے چاند کی سطح جیسے ہو گئے ہیں

اطلاعات کے مطابق میانمار کی شمالی ریاست کچین میں مشہور پتھر جیڈ یا فیروزے کی کانوں والے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں افراد لاپتہ ہیں اور خوف ہے کہ یہ تمام افراد ہلاک نہ ہو گئے ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہپاکانت کے اردگرد علاقے میں پیش آنے والے حادثے کے بعد لاپتہ افراد اور لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

بینکاک پوسٹ کے مطابق ہیپاکانت کے اعلیٰ عہدیدار ٹنٹ سوی مینت کا کہنا ہے کہ ’پانچ افراد کی لاشیں پہلے ہی مل چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 50 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔‘

تاہم ایک اور مقامی عہدیدار میو ہتت آنگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’اس وقت صرف تین یا چار افراد لاپتہ ہیں اور کوئی لاش نہیں ملی ہے۔‘

گذشتہ ماہ اسی علاقے میں لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ واقع میانمار کے شمالی حصے میں جیڈ یا فیروزے کی کانوں کے قریب اُس وقت پیش آیا تھا جب کان کا معدنی فضلے کا ڈھیر اچانک زمین میں دھنس گیا تھا۔

خیال رہے کہ مرنے والے زیادہ تر کچرابین تھے جو کان کن کمپینیوں کے پھینکے ہوئے کچرے میں سے فیروزے کے ناکارہ ٹکڑے تلاش کر کے روزی کماتی تھے۔

یہ علاقہ دنیا بھر میں فیروزے کے انتہائی عمدہ معیار کے لیے مشہور ہے۔ تاہم مٹی کے تودے سرکنے کے واقعات بھی یہاں عام ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty