میانمار کے شب و روز تصاویر میں

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
فوٹوگرافر جیفری ہیلر میانمار یعنی برما کے لوگوں کی زندگی کو سنہ 1987 سے دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
میانمار پر ان کی تازہ کتاب ’ڈے بریک ان میانمار‘ یعنی میانمار میں طلوع صبح سے چند تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
اس کتاب میں برما کی چند نمایاں شخصیتوں کے ساتھ انٹرویوز بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
انھوں نے فوجی حکومت کے خاتمے اور سنہ 2010 میں فوجی حمایت میں بننے والی حکومت تک وہاں کا کئی بار دورہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
ان کی تصاویر میں برما کے باشندوں کی روزمرہ کی زندگی کی عکاسی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ Geoffrey Hiller
انھوں نے سر راہ یا چائے پیتے ہوئے تصویریں لی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
انھوں نے پہلی بار سنہ 1987 میں ایک ہفتے کے ویزا پر میانمار کا دورہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
سفری پابندیوں کے باوجود انھیں اس ملک سے محبت ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
وقت کے ساتھ ہر سال فوجی حکومت میں نرمی آتی گئی لیکن سنہ 2000 میں انھیں عام طور پر اپنے کیمرے کو چھپانا پڑتا تھا اور سادی وردی میں موجود سرکاری ایجنٹس انھیں روکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ وہاں سے فلم کے 90 رولز باہر لے جانے میں کامیاب رہے۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
امریکی سفارتخانے کی جانب سے ملازمت کے دوران انھوں نے سنہ 2011 میں ینگون (رنگون) میں فوٹوگرافی کی تعلیم دی اور اس کے ایک سال بعد اپنے شاگردوں سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
ان میں سے بعض اب بین الاقوامی اور قومی میڈیا کے لیے کام کر رہے ہیں اور حکام کی جانب سے مزید نرمی کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر بھی اپنی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGeoffrey Hiller
ان سب تبدیلیوں کے باوجود ہیلر کا خیال ہے کہ میانمار کا مستقبل ابھی غیر یقینی ہے اور اس کا بہت حد تک دارومدار 25 سال میں پہلی بار ہونے والے عام انتخابات پر ہوگا۔







