شام میں فضائی حملے، روس نے ایمنسٹی کی رپورٹ مسترد کر دی

،تصویر کا ذریعہThinkstock
روس نے شام میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے بارے میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ روس کی شام میں کی جانے والے فضائی کارروائیوں میں کم سے کم 200 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ’ کوئی مخصوص بات یا نئی چیز‘ نہیں دیکھی ہے۔
ترجمان نے روس کی فوج کی جانب سے شام میں کلسٹر گولہ بارود استعمال کرنے کے الزام کی بھی تردید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ روس کی شام میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں کم سے کم 200 شامی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق روس کے شام میں کیے جانے والے چند حملے ’جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ روس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم اور دیگر گروپوں کے خلاف رواں برس 30 ستمبر سے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
روس کا موقف رہا ہے کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کی درخواست پر یہ کارروائی کر رہا ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ماسکو میں ایک بریفنگ کو بتایا کہ ہم نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا ’ اس رپورٹ میں کوئی مخـصوص بات یا نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس میں صرف فرسودہ اور جعلی چیزیں ہیں جسے ہم پہلے بھی بار بار بے نقاب کر چکے ہیں۔‘
خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے روس کی جانب سے 30 ستمبر سے 29 نومبر کے دوران شام کے شہروں حمص، حما، ادلب اور حلب میں کیے جانے والے 25 سے زائد فضائی حملوں پر تحقیق کی ہے۔
امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کا بھی ثبوت ملا ہے کہ روسی فوج نے اس حملے میں ’گنجان آبادی والے علاقوں میں ان غیر قانونی گائیڈڈ بموں کا اندھا دھند استعمال کیا۔‘
تاہم روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دور سے کی جانے والی تحقیق میں اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ ان علاقوں میں جہاں شامی شہری ہلاک ہوئے وہاں فوجی ہدف نہیں تھے۔
روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ شام میں شدت پسندوں نے گاڑیوں میں نصب ہتھیار استعمال کیے اور ’ہرگاڑی کو یونٹ سمجھا جاتا ہے جو کہ قانونی طور پر فوجی ہدف کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک شام میں کلسٹر گولہ بارو استعمال کرنے کا الزام ہے تو ’روس نے اسے استعمال نہیں کیا کیونکہ نہ ہمارے پاس ایسے ہتھیار ہیں اور نہ ہی شام میں ہمارا کوئی اڈہ ہے۔‘







