فن لینڈ: ’دولت اسلامیہ‘ سے تعلق کا شبہ، دو عراقی بھائی گرفتار

،تصویر کا ذریعہAP
فن لینڈ میں پولیس نے دو عراقی جڑواں بھائیوں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام کی ایک ویڈیو میں دکھائی دیے تھے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے 23 سالہ دونوں بھائیوں پر جون 2014 میں عراق کے شہر تکریت میں 11 افراد کے قتل کا شبہ ہے۔
پولیس کے مطابق وہ ستمبر میں فن لینڈ آئے تھے اور انھیں جنوب مغربی شہر فورسا سے گرفتار کیا گیا ہے۔
چیف انسپکٹر جاری راٹی کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دونوں مشتبہ افراد کے ’چہرے ڈھکے ہوئے نہیں تھے۔‘
انھوں نے فن لینڈ کے نشریاتی ادارے وائی ایل ای کو بتایا: ’نشانہ بنائے جانے والے افراد زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور باری باری ان کو گولی ماری گئی تھی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان مسلح نہیں تھے اور ان کا سراغ فنش سکیوٹی انٹیلی جنس سروس کی مدد سے لگایا گیا ہے۔
تاہم پولیس نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔
جاری راٹی نے اس بارے میں بھی نہیں بتایا کہ کیا دونوں شخص فن لینڈ میں پناہ حاصل کرنے آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائی ایل ای کے مطابق دونوں بھائیوں کو جمعے کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا جائے جہاں پولیس ان کی گرفتار کے لیے باضابطہ اجازت طلب کرے گی۔
خیال رہے کہ قتل عام کی اس ویڈیو میں تکریت کے قریب فوجی اڈے میں عراق فضائیہ کے غیرمسلح کیڈٹوں کا قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔








