سعودیہ میں موت کی سزاؤں میں اضافہ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, کیرلائین ہولی
- عہدہ, بی بی سی کی عالمی امور کی نامہ نگار
سعودی عرب میں ایک شاعر کو توہین مذہب کے الزام میں سر قلم کرنے کی سزا سنائی گئی۔
اس کے علاوہ نابالغ عمر میں گرفتار کیے جانے والے تین نوجوان شیعہ مسلمانوں کے سر قلم کرنے کی سزا بھی سنائی گئی۔
شیعہ کارکن کی سزائے موت ختم کرنے کی اپیل
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اس سال جنوری سے خبروں میں ہے جب ایک آزاد خیال بلاگر رائف بداوی کو توہین اسلام کا مرتکب قرار دے کر کوڑے لگائے گئے۔ اُسی مہینے ایک برمی عورت کی ایک پریشان کن ویڈیو سامنے آئی۔ عورت پر قتل کا الزام تھا اور وہ اُس وقت تک چیخ چیخ کے کہتی رہی کہ ’میں نے قتل نہیں کیا’ جب تک اس کا سر سڑک پر ہی تلوار کی دھار سے تن سے الگ نہیں کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہ.
سعودی عرب میں اب تک اس سال ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے، جو انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 20 برسوں کے دوران دی جانے والی پھانسیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
ان میں سے درجنوں افراد کو منشیات سمیت دیگر عدم تشدد پرمبنی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی مقدمات غیر منصفانہ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنٹسی انٹرنیشنل نے سعودی حکام کی جانب سے سزائے موت کے استعمال کو’ ایک نیا سنگین سنگِ میل’ قرار دیا ہے۔
پھانسیوں کی تعداد میں اس اضافے کے پیچھے کیا ہے؟
سعودی عرب کا آئینی نظام اس سلسلے میں شفافیت کے عمل کو سمجھنا مشکل بنا دیتا ہے۔ ملک میں انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے ایڈم کُوگل کہتے ہیں کہ ’اس بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، لیکن کوئی اس کا اصل جواب نہیں جانتا کیونکہ سعودی حکام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور نہ دیں گے۔‘
یہ سال سعودی عرب کے لیے واقعات سے بھرپور سال رہا۔ جہاں جنوری میں شاہ سلمان نے اپنے کہیں زیادہ آزاد خیال بھائی ’شاہ عبداللہ‘ کی جگہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور ملک کی نئی خارجہ پالیسی میں زیادہ جارحانہ انداز اختیار کیا۔
مارچ میں سعودی عرب نے یمن میں حُوثی باغیوں کے خلاف بمباری شروع کی جس میں ہزاروں شہری بھی مارے گئے۔ اس کے علاوہ حج کے دوران بھگدڑ نے سعودی عرب کو ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

دولتِ اسلامیہ اور اس سے منسلک تنظیموں کی جانب سے سنی شدت پسندی ایک مستقل خطرہ بنی رہی اوراس دوران ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں بسنے والے کم از کم 50 شیعہ مسلمان قتل ہوئے۔
لیکن انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے مطابق ملک میں پھانسیوں کی سزا پر عمل درآمد میں اضافہ دراصل اگست 2014 میں شروع ہوا۔
مسٹر کوگل کہتے ہیں کہ ’ جتنے لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں، تقریباً اُن سب پر قتل یا منشیات کے الزامات تھے۔ قتل کے واقعات سمیت ملک میں منشیات لانے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے ممکن ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہو۔‘
پچھلے چند سالوں میں سعودی عرب کی تنظیم نو سے وابستہ ایک اور نظریہ اس کے نظامِ عدل سے منسلک کیا جاتا ہے۔ مسٹر کُوگل کہتے ہیں کہ ’عدالتوں اور ججوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے نظام میں پرانے مقدمات کو حل کرنے کی صلاحیت ہو۔‘
ایک تیسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ اُس پورے خطے میں پھانسیاں دینے کےرجحان کاحصہ ہے جہاں پاکستان میں سزائے موت کے استمعال میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اردن نے گذشتہ برس دسمبر میں پھانسیوں پر پابندی ختم کر دی۔
مسٹر کوگل کے مطابق ’خطے میں ایک ایسا احساس پایا جاتاہے جسے عدم استحکام نے جنم دیا ہے اور جو خطے کے رہنماؤں کو سخت گیر نظر آنے پر مائل کررہا ہے۔‘
پھانسیوں کا سامنا کرنے والوں میں القاعدہ کے شدت پسندوں سمیت وہ شیعہ منحرفین شامل ہیں جو 2011 کے آغاز میں ملک کے مشرقی حصے میں بغاوت میں ملوث تھے۔ مسٹر کوگل کہتے ہیں کہ ’یہ واضح پیغام ہے کہ اگر آپ سعودی گھرانے کو چیلنج کرنے کے لیے سڑکوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘
دنیا بھر سے سینکڑوں شاعروں اور ادیبوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فیاض کی سزا، سعودی عرب میں اظہار رائے کی آزادی کی جانب عدم برداشت اور مفکرین پرجاری ظلم و ستم کی تازہ ترین مثال ہے۔‘ سعودی حکام نے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بین الاقوامی تنقید کو مستد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا آئینی نظام شریعت کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔







