سعودی عرب میں ایک شاعر کا سر قلم کرنے کی سزا

،تصویر کا ذریعہThinkstock
سعودی عرب میں ایک شاعر اور آرٹسٹ اشرف فیاض کو توہین مذہب کے الزام میں سر قلم کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔
فلسطینی نژاد اشرف سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
<link type="page"><caption> ’ملازماؤں کے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151119_sri_lanka_domestic_workers_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’سعودی عرب نہ جانا، وہ لوگ ہم پر تشدد کر رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151113_indian_maid_hand_chopped_saudia_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اشرف کو پہلے چار سال جیل اور آٹھ سو کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
تاہم اس سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد ان کے خلاف ایک اور عدالت میں دوسری بار مقدمہ چلایا گیا جس میں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔
35 سالہ اشرف کو اطلاعات کے مطابق اپنے دفاع کے لیے کوئی قانونی مدد فراہم نہیں گئی تھی۔
انھیں اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے تیس دن تک کا وقت دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کی مذہبی پولیس نے اشرف کو 2013 میں جنوب مغربی علاقے ابھا سے گرفتار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFAMILY HANDOUT
اشرف فیاض کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھیں ایک ویڈیو جاری کرنے پر یہ نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں مذہبی پولیس کے اہلکار ایک شخص کو کوڑے مار رہے تھے۔
اس سے پہلے سعودی عرب میں قید سعودی بلاگر رائف بداوی کو گذشتہ برس مئی میں توہین مذہب کے الزام میں دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا دی گئی تھی۔
ایک دن پہلے ہی جمعرات کو سری لنکا کی ایک وزیر نے امید ظاہر کی تھا کہ سعودی عرب میں ایک سری لنکن ملازمہ کو سنگسار کرنے کی سزا کے بعد ان کا ملک وہاں خواتین گھریلو ملازمین کو بھیجنا بند کر دے گا۔
سری لنکن خاتون کا نام سامنے نہیں آیا لیکن شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں پر الزام ہے کہ اس کے ایک غیر شادی شدہ سری لنکن شخص سے غیر ازدواجی تعلقات تھے۔
اگست میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 175 افراد کو ’غیر منصفانہ‘ نظام کے تحت، جس میں بنیادی تحفظات میسر نہیں ہیں، سزائے موت دی گئی۔







