’ملازماؤں کے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سری لنکا کی ایک وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب میں ایک سری لنکن ملازمہ کو سنگسار کرنے کی سزا کے بعد ان کا ملک وہاں خواتین گھریلو ملازمین کو بھیجنا بند کر دے گا۔
بیرون ملک مقیم سری لنکن ملازمین کی وزارتِ کی وزیر تھالتھا ایتوکورلے نے بی بی سی سنہالی سروس کو بتایا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جلد ہی ان کا ملک گھریلو ملازمت کی غرض سے خواتین کے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔
<link type="page"><caption> ’سعودی عرب نہ جانا، وہ لوگ ہم پر تشدد کر رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151113_indian_maid_hand_chopped_saudia_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سعودی عرب: سری لنکا کی ملازمہ کا سرقلم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2013/01/130109_srilanka_maid_ms" platform="highweb"/></link>
سری لنکا میں سعودی عرب ملازماؤں کے طور پر جانے پر پابندی کی باتیں کئی برسوں سے ہو رہی ہیں۔
<link type="page"><caption> ان میں 2013 میں اس وقت شدت آئی جب وہاں سری لنکن ملازمہ رضانہ نفیق کا قتل کے جرم میں سزا کے طور پر سر قلم کر دیا گیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2013/01/130109_srilanka_maid_ms" platform="highweb"/></link>
اس وقت بھی رضانہ کی سزا کو ختم کرنے کے بارے میں متعدد اپیلیں کی گئی تھیں اور سری لنکا کے بیرون ملک ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن راجن راما نائیکا کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت کا طرز عمل انتہائی آمرانہ ہے جو کبھی کسی یورپی یا امریکی کے سر تو قلم نہیں کرتے مگر ایشائی اور افریقی نژاد افراد کو کبھی معاف نہیں کرتے۔
بدھ کو ایک سری لنکن ملازمہ کو غیر ازدواجی تعلقات پر سنگسار کرنے کی سزا کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خاتون کا نام سامنے نہیں آیا لیکن شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں پر الزام ہے کہ اس کے ایک غیر شادی شدہ سری لنکن شخص سے غیر ازدواجی تعلقات تھے۔

اس شخص کو ایک سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔
سری لنکا کی برطانیہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ہائی کمشنر اعظمی تھاسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سعودی عرب میں اس سزا کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔
’جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو وہاں کے قوانین کے مطابق اس نوعیت کی سزا معمول کی بات ہے، ہم نے دو کام کیے ہیں، ایک تو متاثرین سے بات کی ہے، ہم نے قانونی مدد حاصل کی اور اس کے خلاف اپیل کی۔‘

رواں ماہ ہی سعودی عرب میں اپنے آجر پر بازو کاٹنے کا الزام عائد کرنے والی بھارتی ملازمہ کستوری منی رتھینم نے بی بی سی کو اپنے اوپر ہونے والے مبینہ حملے کی تفصیلات بتائی ہیں اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملازمت کی غرض سے سعودی عرب جانے پر پابندی عائد کرے۔
کستوری بھی ایک گھریلو ملازمہ تھیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے آجر نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا تھا جب انھوں نے اس کے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
اگست میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 175 افراد کو ’غیر منصفانہ‘ نظام کے تحت، جس میں بنیادی تحفظات میسر نہیں ہیں، سزائے موت دی گئی۔







