سعودی عرب کی جیلوں میں 2308 پاکستانی قید

سعودی عرب میں سزا پانے والے اور واپسی کے منتظر زیادہ تر پاکستانی حج اور عمرے کے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہmofa

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں سزا پانے والے اور واپسی کے منتظر زیادہ تر پاکستانی حج اور عمرے کے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے 2308 شہری سعودی عرب کی جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ وہاں موجود 2300 پاکستانی ملک بدری کے منتظر ہیں۔

یہ اعداد و شمار دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتائے۔

انھوں نے بتایا کہ سزا پانے والے اور واپسی کے منتظر زیادہ تر پاکستانی حج اور عمرے کے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔

اگر کسی بھی بےدخل کیے جانے والے شخص کو عارضی سفری نامہ جاری کیا گیا تو اس سفارت کار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر کسی بھی بےدخل کیے جانے والے شخص کو عارضی سفری نامہ جاری کیا گیا تو اس سفارت کار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں پاکستانی وزیرِ داخلہ نے بتایا تھا کہ خلیجی ممالک میں سعودی عرب سے ملک بدر ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

20 نومبر 2015 کو پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران سعودی عرب میں 38 پاکستانیوں کے سر قلمکیے گئے یہ افراد قتل اور منشیات کے مقدمات میں گرفتار ہوئے تھے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں ان افراد کی فہرست بھی پیش کی گئی جن کے سر سعودی عرب میں قلم کیے گئے ہیں تاہم اس بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان افراد کا تعلق کس علاقے ہے۔

اس سے قبل وزارتِ داخلہ کی واضح ہدایات کے باوجود اگر کسی بھی بےدخل کیے جانے والے شخص کو عارضی سفری نامہ جاری کیا گیا تو اس سفارت کار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔