دو اسرائیلی فلسطینی نوجوان کو زندہ جلانے کے مجرم

محمد ابو خضیر کو یروشلم میں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمحمد ابو خضیر کو یروشلم میں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا

دو 17 سالہ اسرائیلی نوجوانوں کو سنہ 2014 میں محمد ابو خضیر نامی فلسطینی نوجوان کو اغوا کر کے زندہ جلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

پیر کو یروشلم ضلعے کی عدالت کے تین ججوں نے دونوں نوجوانوں کو ابو خضیر کے قتل میں مجرم قرار دیا۔

عدالت نے ایک تیسرے مشتبہ فرد کے خلاف فیصلہ تب تک ملتوی کر دیا ہے جب تک کہ ان کی ذہنی صحت کا معائنہ نہیں کیا جاتا۔

ابو خضیر کے قتل کے کیس میں اسرائیلی استغاثہ نے کہا تھا کہ اپنی تفتیش کے دوران جب انھوں نے دونوں کم عمر اسرائیلی نوجوانوں اور 31 سالہ یوسف بن حائم ڈیوڈ سے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے ابو خضیر کو مار پیٹ کر بےہوش کرنے کے بعد زندہ جلا دیا تھا۔

ان تمام ہلاکتوں کے بعد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان تمام ہلاکتوں کے بعد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا

ججوں کا کہنا ہے کہ یوسف بن حائم ڈیوڈ کو مجرم قرار دینے کے لیے ان کے پاس ٹھوس ثبوت تو ہے لیکن فیصلہ سنانے سے پہلے ان کا نفسیاتی معائنہ کیا جائے گا۔

جمعرات کو یوسف بن حائم کے وکیل نے عدالت میں ایک ماہر نفسیات کی رائے درج کروائی تھی جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ قتل کے دوران یوسف اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔

ابو خضیر کے والد حسین نے کہا ہے کہ بن حائم عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

16 سالہ محمد ابو خضیر کے قتل سے پہلے تین اسرائیلی نوجوانوں کو اغوا کر کے ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا قتل بظاہر انتقامی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔

ابو خضیر کی لاش دو جولائی سنہ 2014 میں مغربی یروشلم کے ایک جنگل سے ملی تھی۔

ابو خضیر کے قتل سے دو دن قبل ان تین اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں غربِ اردن میں پائی گئی تھیں۔ انھیں حماس کے شدت پسندوں نے جون میں اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔

ان ہلاکتوں کے بعد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

ستمبر 2014 میں اسرائیلی فورسز نے الخلیل کے علاقے میں ان دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا تھا جن پر تین اسرائیلی نوجوانوں کو قتل کرنے کا شبہ تھا۔