غرب اردن اور اسرائیل میں پرتشدد واقعات، پانچ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
حکام کے مطابق مقبوضہ غرب اردن اور اسرائیل میں ہونے والے دو حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تل ابیب میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہونے والے مرکز کے باہر ایک فلسطینی شخص نے چاقو کے حملے سے دو اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد یہودی بستی میں فائرنگ اور گاڑی کے حملے میں ایک اسرائیلی سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔
مقبوضہ غرب اردن اور اسرائیل میں تشدد کے حالیے لہر میں 15 اسرائیلی اور درجنوں فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
جمعرات کو پہلا حملہ تل ابیب کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں ہوا۔
ایک عینی شاہد سائمن ویکنن نے اخبار یروشلم پوسٹ کو بتایا ہے کہ دوپہر کو ایک مرکز میں عبادت شروع ہی ہوئی تھی کہ ایک شخص نے وہاں موجود متعدد افراد پر حملہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
وہاں موجود افراد نے حملہ آور کو عبادت گاہ سے باہر دھکیل کر دروازے بند کر دیے۔ اس واقعے میں دو اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے جبکہ حملہ آور معمولی زخمی ہوا ہے۔
حکام کے مطابق 36 سالہ حملہ آور کا تعلق غرب اردن کے گاؤں دورا سے ہے اور حراست میں لیے جانے کے دوران مزاحمت پر معمولی زخمی ہوا ہے۔
فلسطنی تنظیم حماس نے ایک ٹویٹ میں تل ابیب کے حملے کو’ایک بہادرانہ حملہ قرار‘ دیتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں ایسے حملے جاری رکھیں۔
اس واقعے کے کچھ دیر بعد غرب اردن میں گاڑی میں سوار ایک شخص نے پہلے فائرنگ کی اور بعد میں اپنی گاڑی سے پیدل چلنے والے افراد کو کچل دیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اسرائیلی شہری شامل ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس واقعے میں دو اسرائیلی اور ایک 18 سالہ امریکی سیاح ہلاک ہو گیا۔







