شناخت کی غلطی: اسرائیلی فوجی نے یہودی شہری کو مار ڈالا

،تصویر کا ذریعہGetty
اسرائیل کے شہر یروشلم میں ایک اسرائیلی فوجی کی فائرنگ سے ایک یہودی شہری ہلاک ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ دونوں افراد ایک دوسرے کو عرب حملہ آور سمجھے تھے اور آپس میں لڑ پڑے تھے۔
ادھر اسرائیلی پولیس نے بھی جمعرات کو مزید ایک فلسطینی حملہ آور کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہری نے جمعرات کو وسطی یروشلم میں ایک بس پر سوار ہونے والے دو اسرائیلی فوجیوں کو یہ سمجھ کر روکا کہ وہ حملہ آور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق فوجی بھی اس شخص کو حملہ آور سمجھے اور اس سے خود کو شناخت کروانے کو کہا۔ شہری کے انکار پر ان کی لڑائی ہوئی اور اس دوران جب مذکورہ شہری نے ایک فوجی کی بندوق پر ہاتھ ڈالا تو دوسرے فوجی نے اسے گولی مار دی۔

خیال رہے کہ یہ حالیہ چند دنوں میں کسی فرد کو غلطی سے حملہ آور سمجھ کر ہلاک کیے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل 18 اکتوبر کو بھی ایک بس اڈے پر حملے کے دوران وہاں تعیناتمحافظ نے اریٹیریا کے ایک شہری کو حملہ آور کا ساتھی سمجھ کر گولی مار دی تھیجس کے بعد وہاں موجود عام شہریوں نے اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا اور وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔
جمعرات کو بھی اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے ملک کے وسطی علاقے میں ایک اسرائیلی کو چاقو کے وار سے زخمی کرنے والے دو فلسطینیوں کو گولی ماری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان حملہ آوروں نے یروشلم کے مغربی شہر بیت الشمیش میں پہلے سکول کے طلبا کو لے جانے والی بس پر سوار ہونے کی کوشش کی اور اس میں ناکامی کے بعد بس اڈے پر موجود 25 سالہ شخص کو زخمی کیا۔
اسرائیلی طبی ذرائع کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے جبکہ دوسرے کی حالت نازک ہے
خیال رہے کہ رواں ماہ تشدد کے سلسلہ وار واقعات میں آٹھ اسرائیلی اور حملہ آوروں سمیت 40 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔







