یروشلم میں پولیس چیک پوسٹ کے باوجود حملے جاری

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے حالیہ دو ہفتوں کے دوران فائرنگ اور چاقو سے وار کرنے کے واقعات میں سات اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشناسرائیلی حکام کا کہنا ہے حالیہ دو ہفتوں کے دوران فائرنگ اور چاقو سے وار کرنے کے واقعات میں سات اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں

اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے یروشلم کے عرب علاقوں میں ایک بڑا آپریشن شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد یروشلم میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس نے بدھ کی صبح جبلِ میکابر کے داخلی راستے کو بند کر دیا تھا۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے تین فلسطینیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے منگل کو تین اسرائیلیوں کو قتل کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشن شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد یروشلم کے مرکزی بس سٹیشن پر ایک اسرائیلی خاتون کو چاقو سے زخمی کرنے والے ایک فلسطینی کو ہلاک کر دیا۔

ایک فلسطینی نے اولڈ سٹی میں ایک پولیس اہلکار کو چاقو کے وار سے زخمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اسے بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے حالیہ دو ہفتوں کے دوران فائرنگ اور چاقو سے وار کرنے کے واقعات میں سات اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی کابینہ نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلیوں پر حملہ کرنے والے فلسطینوں کے مکانوں کو کچھ ہی دنوں میں مسمار کر دیں اور انھیں مکان دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی
،تصویر کا کیپشناسرائیلی کابینہ نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلیوں پر حملہ کرنے والے فلسطینوں کے مکانوں کو کچھ ہی دنوں میں مسمار کر دیں اور انھیں مکان دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی

دوسری جانب فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے ان واقعات میں کم سے کم 30 فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے یروشلم میں تشدد کی کارروائیوں پر ’تشویش‘ ظاہر کی ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ جان کیری جلد ہی خطے کا دورہ کریں گے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ترجمان جان کربی نے یروشلم پوسٹ کو ایک انٹرویو میں وزیرِ خارجہ جان کیری کے اس تبصرے کی تائید سے گریز کیا جس میں انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ اسرائیل کی آباد کاری کی پالیسی سے تشدد بڑھ رہا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے یروشلم میں تشدد کے بڑھتے ہوئے حالیہ واقعات کے بعد پہلی بار کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات سے ’ مذہبی تصادم کے پھیلنے کا خطرہ ہے جس سے ہر چیز جل جائے گی۔‘

اسرائیل کی کابینہ نے منگل کی رات پولیس کو یروشلم کے بعض علاقوں کو سیل کرنے کا اختیار دیا تھا
،تصویر کا کیپشناسرائیل کی کابینہ نے منگل کی رات پولیس کو یروشلم کے بعض علاقوں کو سیل کرنے کا اختیار دیا تھا

یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس سے کہا: ’جھوٹ بولنا اور اشتعال دلانا چھوڑ دو۔‘

اسرائیل کی کابینہ نے منگل کی رات پولیس کو یروشلم کے بعض علاقوں کو سیل کرنے کا اختیار دیا تھا۔

اسرائیلی کابینہ نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلیوں پر حملہ کرنے والے فلسطینوں کے مکانوں کو کچھ ہی دنوں میں مسمار کر دیں اور انھیں مکان دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی اور ان افراد کے خاندانوں سے یروشلم میں رہنے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔