مالی میں اقوام متحدہ کے مشن پر راکٹ حملہ، دو اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افریقی ملک مالی میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر راکٹ سے حملہ ہوا ہے جس میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سنیچر کو مالی میں ہونے والے حملے میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیدال کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں ایک کنٹریکٹر بھی ہلاک ہوا ہے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق افریقی گنی سے ہے۔
مالی میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان نے بتایا کہ کیدال میں قائم فوجی اڈے کو چار سے پانچ راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے میں کم سے کم 14 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثر شدید زخمی ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ مشن پر حملے میں اسلامی شدت پسند تنظیم ملوث ہے۔ تاہم ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مالی میں اقوام متحدہ کا امن دستے کی تعیناتی کی منظوری سنہ 2014 میں اُس وقت دی گئی تھی جب ملک کے شمالی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے زور پکڑنا شروع کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالی کے دارالحکومت باماکو میں گذشتہ دونوں امریکی ہوٹل پر اسلامی شدت پسندوں نے حملہ کر کے غیر ملکی مہمانوں اور عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا اور اس حملے میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مالی فرانس کی نو آبادیات رہ چکی ہے اور فرانس نے ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے اپنی افواج بھی بھیجی ہے۔
مالی میں اقوام متحدہ کی امن افواج میں 10 ہزار اہلکار شامل ہیں اور جن میں اکثریت کا تعلق جنوبی افریقی ممالک سے ہے۔ مالی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی تعیناتی پر کئی حلقوں نے تنقید کی تھی کیونکہ مشن کے تعیناتی کے وقت کوئی امن معاہدے نہیں طے پایا تھا۔
امن مشن کے اہلکاروں پر شدت پسندوں کے حملوں میں اب تک تقریباً 56 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔







