مالی ہوٹل پر حملہ: سپیشل فورسز کا آپریشن جاری

،تصویر کا ذریعہGetty
مالی کی سپیشل فورسز دارالحکومت باماکو کے ریڈیسن بلو ہوٹل میں داخل ہو گئی ہیں جہاں حملہ آوروں نے 170 افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔
ان میں 140 افراد ہوٹل کے مہمان اور 30 عملے کے اراکین شامل تھے۔
ہوٹل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 138 افراد ابھی بھی ہوٹل کے اندر موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے اور گولیاں برساتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہوئے۔
اہلکاروں کے مطابق 30 یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ اس سے قبل مالی کے سرکاری ٹی وی نے کہا تھا کہ 80 افراد کو چھڑوا لیا گیا ہے۔
ابھی تک آنے والی اطلاعات کے مطابق کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شدت پسندوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوٹل پر حملہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ داخلہ صالیف تراؤرے نے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے فوجی خطرے سے باہر ہیں۔
وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ہوٹل ایک امریکی کمپنی کی ملکیت ہے۔
اس ہوٹل میں غیر ملکی کاروباری افراد اور ہوائی کمپنیوں کا عملہ قیام کرتا ہے۔ ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کے ریسکیو آپریشن میں عملے کے 12 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ہوٹل میں مقیم چھ مہمانوں کا تعلق ترکی سے ہے جبکہ 20 بھارتی اور دس چینی شہری موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کی امن فوج کا کہنا ہے کہ وہ مالی خصوصی افواج کے اس آپریشن میں تعاون کر رہے ہے اور یرغمالیوں کو رہا کروایا جا رہا ہے۔
ہوٹل میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے چھ مزید افراد کو رہا کروایا ہے اور اس دوران مسلح حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے پانچوین اور چھٹی منزل پر چلے گئے۔
عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں وہ وہاں موجود ہیں۔ میں نے ہوٹل چھوڑ دیا ہے اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ میں تھکا ہوا ہوں اور دکھی ہوں۔‘
اگست میں مالی کے ایک اور ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ہوٹل میں موجود ایک چینی باشندے نے چینی خبر رساں ادارے شن ہوا کو موبائل ایپ کےذریعے بتایا کہ انھیں بھی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ چند ایسے یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔
حملے کے وقت وہاں موجود ہوٹل کے مالی نے بتایا کہ ’وہ ایک گاڑی میں آئے جس پر ڈپلومیٹک لائسنس پلیٹ لگی ہوئی تھی اور انھوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔ ہوٹل کے گیٹ پر سکیورٹی گارڈ نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ہم وہاں سے بھاگ گئے۔‘
قطری الجزیرہ ٹی وی نے ہوٹل میں یرغمال بنانے والے تنظیم کی شناخت انصار الدین کے نام سے کی ہے۔
چینل کے مالی میں نامہ نگار کے مطابق انصار الدین ایک شدت پسند تنظیم ہے جو مالی میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے۔
مالی ماضی میں فرانس کی نوآبادی رہی ہے اور جنوری 2013 میں القاعدہ کے حملوں کے بعد فرانس نے مالی میں مداخلت کی اور ملک کے شمالی علاقوں کا کنٹرول سنبھالا تھا۔








