مالی کے دارالحکومت میں ہوٹل پر حملہ

شدت پسندوں نے دارالحکومت باماکو کے ایک ہوٹل پر حملہ کر کے 170 افراد کو یرغمال بنا لیا۔

مالی کے دارالحکومت باماکو میں مسلح افراد نے ایک ہوٹل میں موجود مہمانوں اور عملے کے افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے
،تصویر کا کیپشنمالی کے دارالحکومت باماکو میں مسلح افراد نے ایک ہوٹل میں موجود مہمانوں اور عملے کے افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے
سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ چند ایسے یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے جو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ چند ایسے یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے جو قرآن کی تلاوت کر رہے تھے
پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا ہے
،تصویر کا کیپشنپولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا ہے
مالی کے صدر کے دفتر نے باماکو کے ہوٹل پر حملے کے بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔ ’اس صبح کو باماکو کے ریڈیسن بلو ہوٹل پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 170 لوگوں کو یر غمال بنا لیا ہے‘
،تصویر کا کیپشنمالی کے صدر کے دفتر نے باماکو کے ہوٹل پر حملے کے بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔ ’اس صبح کو باماکو کے ریڈیسن بلو ہوٹل پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 170 لوگوں کو یر غمال بنا لیا ہے‘
رواں سال اگست میں مالی کے ایک اور ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار بھی شامل تھے
،تصویر کا کیپشنرواں سال اگست میں مالی کے ایک اور ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار بھی شامل تھے
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مسلح افراد نے جس ہوٹل پر حملہ کیا ہے وہ امریکی ہوٹلوں کی ایک شاخ ہے
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مسلح افراد نے جس ہوٹل پر حملہ کیا ہے وہ امریکی ہوٹلوں کی ایک شاخ ہے
 اطلاعات کے مطابق حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے گولیاں برسا رہے تھے
،تصویر کا کیپشن اطلاعات کے مطابق حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے گولیاں برسا رہے تھے
شدت پسندوں نے بعض یرغمالیوں کو رہا کیا ہے اور حکام رہا ہونے والے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے بعض یرغمالیوں کو رہا کیا ہے اور حکام رہا ہونے والے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔
سیکورٹی فورسز یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے ہوٹل میں داخل ہوئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسیکورٹی فورسز یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے ہوٹل میں داخل ہوئی ہیں۔