عراق میں 110 یزیدی افراد کی اجتماعی قبر دریافت

،تصویر کا ذریعہAP
عراق میں حکام کا کہنا ہے ملک کے شمال میں 110 سے زائد یزیدی برادری کےافراد کی اجتماعی قبر ملی ہے جبکہ اس قبر میں بارودی مواد بھی نصب کیا گیا تھا۔
یہ قبر نومبر کے آغاز میں عراقی قصبے سنجار کا خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے قبضہ چھڑانے کے بعد اس قصبے کے قریب سے ملی ہے۔
یاد رہے کہ دولت اسلامیہ نے اگست 2014 میں سنجار پر قبضہ حاصل کیا تھاجس کے بعد اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ انھوں نے وہاں موجود یزیدی برادری کو غلام بنانے کے بعد وہاں موجود افراد کا قتل عام کیا اور عورتوں اور لڑکیوں کا ریپ بھی کیا۔
خیال کیا جا رہے کہ سنجار قصبے میں یا اس کے قریب ملنے والی چھٹی اجتماعی قبر ہے۔
صوبہ نینوا کے اعلیٰ عہدیدار ماہما خلیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’یہ قبر سنجار کے مغرب میں دس کلو میٹر دور واقع ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبر کے ارد گرد بارودی مواد نصب کیا گیا ہے اور اس قبر کی کھودائی ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ قبر میں موجود لاشوں کا اندازہ ان افراد کی ہلاکت کے عینی شاہدین سے ملنے والی معلومات سے لگایا گیا ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ دو ہفتے قبل ایک قبر ملی تھی جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے 80 خواتین کی لاشیں ملی ہیں جن کی عمریں تقریباً 40 سے 80 سال کے درمیان تھیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق یزیدی برادری کے ساتھ دولت اسلامیہ کی جانب سے کیا جانے والا سلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ عراق میں دولت اسلامیہ نسل کشی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔







