’بار بار ریپ کیا گیا، اذیت دی گئی‘

تین یزیدی خواتین خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کی غلامی سے بھاگ کر لندن پہنچی ہیں جہاں انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے حوالے سے خوفناک انکشافات کیے ہیں۔
یہ تینوں لڑکیاں خوفزدہ ہیں۔ انھوں نے کیمرے پر اپنے شناخت ظاہر اس لیے نہیں کی کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی ان کے عزیز و اقارب شدت پسندوں کی تحویل میں ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ اگر ان کی شناخت سامنے آئی تو شدت پسند ان کے رشتے داروں پر مظالم بڑھا دیں گے۔
ان کی کہانیاں سن کر تو موجودہ صورتحال سے بدتر حالات کا تصور بھی قدرے مشکل ہے۔
20 سالہ بشرا کہتی ہیں کہ انھیں دن میں پانچ مرتبہ تک بھی ریپ کیا گیا۔ ’ایک لڑکی نے غسل خانے میں جا کر اپنی کلائی کاٹ لی۔ جب اس کی جان نہیں گئی تو اس نے اپنا گلا کاٹ لیا۔ محافظنے آ کر مجھ سے کہا کہ اس کی شناخت کرو، وہ تمھاری دوست تھی۔ اس کے چہرے پر اتنا خون تھا میں اسے پہچان بھی نہیں سکی۔ انھوں نے اس کی لاش کو کوڑے کے ساتھ پھینک دیا۔‘
مقامی اطلاعات کے مطابق شام اور عراق کے وسیع علاقے میں پیش رفت کرنے کے ساتھ ساتھ ’دولتِ اسلامیہ‘ کے کمانڈر ان علاقوں کو تمام اقلیتوں سے صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یزیدی کیونکہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی عیسائی، ’دولتِ اسلامیہ‘ کی نظر میں وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور انھیں ختم کرنا جائز ہے۔
ایک سال قبل اپنے گاؤں پر ہونے والے حملے کا سوچ کر بشرا آج بھی خوفزدہ ہو جاتی ہے۔
’ایک رات انھوں نے دو قریبی دیہاتوں پر حملہ کیا، اور کیونکہ وہاں پر لڑنے کے لیے صرف یزیدی مرد تھے، پیشمرگاہ نہیں تھے، ہمیں کہا گیا کہ ہم بھاگ جائیں۔‘

’لیکن ہمارے دیہات میں موجود پیشمرگاہ جنگجؤوں نے کہا کہ ہمیں بھاگنے کی ضرورت نہیں، وہ ہماری حفاظت کر لیں گے۔ مگر وہ ناکام رہے اور ’دولتِ اسلامیہ‘ کے جنگجؤ ہمارے گاؤں میں داخل ہو گئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقام سے کہانی 21 سالہ نور سناتی ہیں۔ ’انھوں نے مردوں کو بچوں اور عورتوں سے علیحدہ کیا۔ وہ مردوں کو گولیاں مارنے لے گئے۔ میرے سات بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ باقی چھ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ میرے گاؤں کی 70 دیگر بوڑھی عورتوں کے ساتھ لے جایا گیا۔ ہمیں ایک زمین کھودنے والی گاڑی نظر آئی اور پھر ہمیں گولیوں کی آواز آئی۔‘
صرف نوجوان لڑکیوں کی جان چھوڑی گئی اور ان میں سے بہت کی خواہش ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔
16 سالہ منیرہ کہتی ہیں کہ انھیں گاؤں کے سکول کے ایک کلاس روم میں بند کیا گیا اور پھر ان میں سے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا۔ ’دولتِ اسلامیہ کے کمانڈر عموماً 50 سے 70 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔ میں 15 سال کی تھی جب ایک کمانڈر نے مجھے چنا۔ اس کا کہنا تھا کہ نوجوان لڑکیاں بڑی عمر کی لڑکیوں سے بہتر ہوتی ہیں وہ عموماً سب سے خوبصورت لڑکیاں چنتے ہیں۔‘
چند ہفتوں کے بعد کمانڈد کی اس لڑکی میں دلچسپی ختم ہوگئی۔ ’ابو محمد کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس لڑکی کو تب حاصل کیا تھا جب یہ کنواری تھی۔ اب میں اس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مجھے کوئی اور چاہیے۔‘ اس کے بعد مجھے ابو عبد اللہ کو بیچ دیا گیا اور اس نے بھی میرا ریپ کیا۔ اس نے پھر مجھے اماد کو بیچ دیا۔ اگر میں فرار نہ ہوتی تو اس نے بھی مجھے استعمال کر کے بیچ دینا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
قید میں ان تمام لڑکیوں کو روزانہ تشدد اور ریپ کا سامنا تھا۔ خوفزدہ اور تھکی ہوئی ہونے کے باوجود انھوں نے وہاں سے بھاگنے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔ نور ایک مرتبہ کھڑکی سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئی پکڑی گئی تو اس کے مالک سلمان نے کہا کہ اب تمھیں سزا دی جائے گی۔
’سلمان اور اس کے گارڈز نے مجھ پر حملہ کیا۔ انھوں نے مجھے مارا اور اپنے سگریٹ میری جلد پر بجھائے۔ سلمان نے مجھے کہا کہ اپنے کپڑے اتارو۔ اس نے کہا میں نے تمھیں کہا تھا کہ بھاگنا مت، اب تمھیں اس کی سزا ملے گی۔ اس نے چھ گارڈز کو کمرے میں میرے ساتھ بند کر دیا۔ انھوں نے بے رحمی سے نا جانے کتنی بار میرا ریپ کیا۔‘
تینوں لڑکیاں بالآخر عراق میں ایک آئی ڈی پی کیمپ میں پہنچیں جہاں سے امار فاؤنڈیشن نامی تنظیم نے انھیں برطانیہ لے جا کر دیگر نوجوانوں کے ’دولتِ اسلامیہ‘ میں شمولیت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے اپنی آپبیتی سنانے پر رضامند کیا۔ یہ کہانیاں سن کر مقامی نوجوان حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔ ان لڑکیوں کی کوشش ہے کہ وہ ’دولتِ اسلامیہ‘ کی جانب سے کیے جانے والے جھوٹے وعدوں سے ان بچوں کو بچا سکیں۔







