تم بچے نہ پیدا کرنے کا کہہ کیسے سکتی ہو؟

جب ہولی براک ویل نے بی بی سی سے بچے نہ پیدا کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات چیت کی تو انھیں اس بات کا احساس تھا کہ انھیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے لیکن ان کو ان کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
لوگوں کی جانب سے اُن پر خود غرضی کے الزامات عائد کیے گئے بلکہ ان کے ساتھ اتنی بدسلوکی ہوئی کہ وہ اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
29 سالہ ہولی براک ویل نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کی طرف سے شائع کیے گئے ایک فیچر میں کہا تھا کہ: ’حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے ایک انسان کو پیدا کرنے میں کوئی کشش نہیں نظر آتی ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنا آپریشن کروانا چاہتی ہیں تاکہ ان کا کوئی بچے نہ پیدا ہو سکے۔
کئی ڈاکٹروں سے اپنا طبی معائنہ کروانے کے باوجود ہولی نہ تو نیشنل ہیلٹھ سروس سے اپنا آپریشن کروا سکتی ہیں اور نہ ہی نجی طور پر۔
ان کے بیان کے بعد فوری طور پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter
ہولی کہتی ہیں: ’کہانی کے شائع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد ہی ٹوئٹر، فیس بک، ای میل اور انسٹاگریم پر مجھے اتنے زیادہ پیغام ملے کہ میں پریشان ہو گئی۔‘
کئی لوگوں نے ہولی کے ساتھ حمایت ظاہر کی۔ مرد اور خواتین دونوں نے کہا کہ ان کے خیالات بھی ہولی سے ملتے جلتے ہیں۔
لیکن ہولی کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جو ہولی نے پہلے بھی سنیں تھیں، جیسا کہ وہ اپنے خیالات خود ہی بدل دیں گی یا پھر یہ کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو ان کے آپریشن کے پیسے نہیں دینے چاہیے کیونکہ بیمار بچوں کو پیسوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بعد پھر لعن طعن شروع ہو گئی۔
ہولی نے کہا: ’لوگوں نے مجھے سوشل میڈیا پر ڈھونڈ کر کہا کہ وہ خوش ہیں کہ میں نے کوئی بچے نہیں پیدا کیے ہیں کیونکہ دنیا میں میرے جیسے اور لوگ نہیں ہونے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔‘
’ایک شخص نے مجھے بڑی بدتمیزی سے کہا کہ وہ میرے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھنا چاہیں گے۔‘
ہولی نے مزید کہا: مجھے اتنی بری باتیں کہی گئی ہیں کہ میں انھیں بیان بھی نہیں کر سکتی ہوں۔ وہ باتیں کسی صورت میں جائز نہیں ہوسکتی ہیں۔ اور میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ تقریباً ساری باتیں مردوں کی جانب سے کہی گئی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
انھوں نے کہا: ’میں خواتین کے لیے ایک تکنیکی ویب سائٹ چلاتی ہوں جس وجہ سے مجھے بہت تنگ کیا جاتا ہے اور مجھے اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔ لیکن اس بار مجھ پر اثر اس لیے پڑا کیونکہ لوگوں نے میری ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بری باتیں کہیں اور اس موضوع پر نہیں جس کے بارے میں میں نے بی بی سی سے بات کی تھی۔‘
کچھ ناقدین نے براک ویل پر الزام عائد کیے کہ وہ دنیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ بی بی سی کی ’100 وومن‘ سیریز کے عملے نے ان سے بات کرنا چاہی تھی اور یہ کہ انھوں نے خود بی بی سی سے رابطہ نہیں کیا تھا۔
ہولی براک ویل کہتی ہیں کہ جمعے کی رات کو ان سے رہا نہیں گیا اور آخر انھوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
لیکن 36 گھنٹوں کے وقفے کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’ٹرولز کا کہنا ہے کہ میرے بغیر ٹوئٹر کچھ زیادہ ہی خاموش ہے۔ اس لیے مجھے انعام ملنا چاہیے۔‘
آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتیں کہ ان کے ناقدین کو ایسا لگے جیسے کہ وہ جیت گئے ہیں۔







