بھارت کی سروگیٹ ماؤں کی مایوسی

کوکھ کی تجارت کی اجازت دینے والے چند ممالک میں بھارت بھی شامل ہے اور اسی لیے کئی ہزار جوڑیاں بچے کی امید میں ملک کا دورہ کرتی ہیں
،تصویر کا کیپشنکوکھ کی تجارت کی اجازت دینے والے چند ممالک میں بھارت بھی شامل ہے اور اسی لیے کئی ہزار جوڑیاں بچے کی امید میں ملک کا دورہ کرتی ہیں

بھارت نے حال ہی میں سروگیسی یعنی کرائے کی کوکھ کے کاروبار پر پابندی لگائی تھی اور فرٹیلیٹی یا تولیدی کلینکس کو حکم دیا تھا کہ وہ غیر ملکی جوڑوں کی طرف سے آنے والی سروگیسی کی درخواستوں کو مسترد کردیں۔ یوگیتا لیمائے ملک کی مغربی ریاست گجرات میں سروگیسی کے ایک سینٹر ’آنند‘ گئیں جہاں انھوں نے اس پابندی سے متاثرہ خواتین سے بات چیت کی۔

’لڑکی ہوئی ہے‘ کہتے ہوئے ایک نرس ایک نوزائیدہ بچے کو اُس خاتون کو دکھانے لائی ہے جنھوں نے اسے پیدا کیا ہے۔

بچے کو دیکھ کر خاتون ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ دے کر اسے پیار کرتی ہے جس کے بعد نرس بچے کو باہر لے جاتی ہے۔

اس بچے کو دیکھنے کے لیے شاید مینہ مکوان کے پاس یہ ایک آخری موقع تھا۔

وہ ایک سروگیٹ ماں ہیں۔ بچہ پیدا کرنے کے بعد جب وہ آرام کر رہی تھیں تو ان کے رشتہ داروں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کسی اور کے بچے کو اپنی کوکھ میں پالنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ اپنے لیے ایک گھر بنا سکیں۔

کوکھ کی تجارت کی اجازت دینے والے چند ممالک میں بھارت بھی شامل ہے اور اس لیے کئی ہزار جوڑیاں بچوں کی امید میں ملک کا دورہ کرتی ہیں۔

سروگیسی میں ایک خاتون کو کسی اور شحض کے لیے بچہ پیدا کرنے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔

سروگیٹ ماں بننے سے پہلے دیوی کاشت کاری کے ایک فارم میں نوکری کرتی تھیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنسروگیٹ ماں بننے سے پہلے دیوی کاشت کاری کے ایک فارم میں نوکری کرتی تھیں

27 سالہ دیوی پرمار کچھ ماہ میں ایک انگریز جوڑے کے لیے بچہ پیدا کریں گی۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ سروگیسی سے پہلے ملنی والی کمائی سے میرا گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔ اُس وقت تو میں اپنا گھر بنانے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن یہ میری زندگی بدل دے گا۔‘

آنند کے سب سے مشہور فرٹلیٹی کلینک میں لوگ بھرے ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد تیزی سے گرنے کا امکان بھی ہے۔

فرٹیلیٹی کلینک کی انتظار گاہ کے ایک کونے میں ایک بھارتی نژاد شادی شدہ جوڑا پریشانی کی حالت میں بیٹھا ہے۔

جانے سے پہلے وہ صرف یہ الفاظ بول پائے: ’ہم صدمے اور مایوسی کی حالت میں ہیں۔‘

برطانیہ کے علاقے ایپنگ کی رہائشی ریکھا پٹیل کی بیٹی بھی آنند میں پیدا ہوئی تھی اور اب وہ دو سال کی ہو چکی ہے۔

انھوں نے کوکھ کے کاروبار پر عائد پابندی کے خلاف انٹرنیٹ پر ایک مہم چلانا شروع کی ہے۔

انھوں نے کہا: ’لوگوں کی عام رائے یہی ہوگی کہ مغربی ممالک کی امیر جوڑیاں بھارت آکر غریب بھارتی عورتوں کو سڑک سے اٹھا کر نو ماہ کے لیے اپنا بچہ پیدا کرواتے ہیں۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے پاس بچہ پیدا کرنے کے لیے یہ ایک آخری موقع تھا۔ ہماری طرح ایسے کئی ہزار لوگ ہیں۔ اگر لوگوں سے یہ موقع بھی چھین لیا جاتا ہے تو یہ ایک بہت المناک بات ہوگی۔‘

آنند میں سروگیسی کے ایک مرکز میں موجود زیادہ تر خواتین غیر ملکی جوڑیوں کے لیے بچے پیدا کرتی ہیں لیکن حکومت اس عمل کو ختم کر دینا چاہتی ہے
،تصویر کا کیپشنآنند میں سروگیسی کے ایک مرکز میں موجود زیادہ تر خواتین غیر ملکی جوڑیوں کے لیے بچے پیدا کرتی ہیں لیکن حکومت اس عمل کو ختم کر دینا چاہتی ہے

بھارت سروگیسی کے لیے ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا کیونکہ یہاں پر کئی خواتین سروگیٹ مائیں بننے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ بھارت میں اچھی طبی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے جو سستی بھی ہوتی ہے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق سالانہ طور پر ملک میں 5000 سروگیٹ بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس تجارت کا حجم تقریباً دو اشاریہ 3 ارب ڈالر ہے۔

لیکن بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ ان غریب نا خواندہ خواتین کو استحصال کا شکار بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی طبی تحقیق کی کونسل (آئی سی ایم آر) کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سومیا سوامیناتھن کہتی ہیں: ’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ خواتین کو پیسے کی اتنی ضرورت ہے کہ وہ اس کام کے لیے اپنے جسم کو کرائے پر دینے کو تیار ہو جاتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر انھیں ایک شائستہ ذریعہ معاش اپنانے کا موقع ملتا تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ پیسے کمانے کے اس ذریعے کو نہ اپناتیں۔ ان خواتین کو رہائش دینے والے فرٹیلیٹی کلینک ان سے کئی زیادہ پیسے کماتے ہیں۔‘

آنند میں ’اکاکشاہ‘ نامی فرٹیلیٹی کلینک چلانے والی ڈاکٹر نینا پٹیل کا کہنا ہے کہ ان خواتین کا خیال بہت اچھے طریقے سے رکھا جاتا ہے۔

انھوں نہ کہا: ’شادی شدہ جوڑیوں کے 24 ہزار ڈالر دینے پڑھتے ہیں جن میں سے 10 ہزار سروگیٹ ماہ کو براہ راست دیے جاتے ہیں۔ اس میں سے باقی رقم نو ماہ کے لیے ان کا خیال رکھنے کے لیے، ان کے طبی معائنے کے لیے اور ان کی ڈیلوری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘

آنند میں موجود خواتین نے تصدیق کی ہے کہ غیر ملکی جوڑیوں کے بچے پیدا کرنے کے لیے انھیں 10 ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنآنند میں موجود خواتین نے تصدیق کی ہے کہ غیر ملکی جوڑیوں کے بچے پیدا کرنے کے لیے انھیں 10 ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں

آنند میں مجھ سے ملاقات کرنے والی تمام خواتین نے تصدیق کی ہے کہ غیر ملکی جوڑیوں کے بچے پیدا کرنے کے لیے انھیں 10 ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔

بھارت میں سروگیسی سے متعلق کوئی قوانین موجود نہیں ہیں۔ اب تک یہ تجارت آئی سی ایم آر کی جانب سے دیے گئے اصولوں پر عمل کر رہی تھی۔

تنظیم کے قوانین کے مطابق صرف وہ خواتین سروگیٹ مائیں بن سکتی ہیں جن کے خود اپنے بچے ہوں۔ اس کے علاوہ وہ صرف ایک بار ہی سروگیٹ ماں بن سکتی ہیں۔

’اسسٹیڈ ریپروڈکٹو ٹیکنالوجی بل‘ نامی ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا گیا ہے لیکن ابھی تک پارلیمنٹ میں اسے منظوری نہیں دی گئی ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے فرٹیلیٹی کلینکس کو حالیہ نوٹس بھیجنے کا فیصلہ ملک کے سپریم کورٹ میں سروگیسی کے خلاف ایک پٹیشن دائر کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔

اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ سروگیسی پر اس پابندی کے بارے میں ان سروگیٹ ماؤں کی کیا رائے ہے۔

اگر حکومت نے سروگیٹ ماں دیوی پرمار سے ان کی رائے مانگی ہوتی تو وہ یہ کہتیں: ’جو کچھ بھی حکومت کر رہی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ کیا وہ ہمارے گھروں میں آکر ہم سے پوچھے گی کہ ہمارے کیا مسائل ہیں اور اگر ہم بھوکے مر رہے ہوں تو کیا وہ ہمیں کھلائے گی؟‘