دہشت گردی کا خطرہ، ’امریکی شہری دنیا بھر میں محتاط رہیں‘

امریکی وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر دنیا بھر میں اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفری ہدایت جاری کی ہے جس میں انھیں محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’موجودہ اطلاعات‘ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ، القاعدہ، بوکو حرام اور دیگر شدت پسند تنظیمیں کئی خطوں میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی سفری ہدایت کا اطلاق 24 فروری 2016 تک ہو گا۔
تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ امریکی شہریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ حال ہی میں فرانس، لبنان، مالی اور مصر سمیت دیگر ممالک میں شدت پسند کارروائیاں ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ پر سفر کے دوران احتیاط برتیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
’امریکی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور مجمعے یا بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں۔‘
حکام کا خیال ہے کہ ’دہشت گردانہ حملوں کے خطرات موجود ہیں کیونکہ داعش کے کارکن شام اور عراق سے لوٹ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ عالمی سطح پر اس قسم کا انتباہ غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے۔
اس سے قبل سنہ 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت اور 11 ستمبر کے حملے کی دسویں سالگرہ پر اس طرح کا الرٹ جاری کیا گیا تھا اور پھر اگست سنہ 2103 میں اس قسم کا انتباہ سامنے آیا تھا۔
ماضی میں عالمی پیمانے پر جاری کیے جانے والے الرٹ کو مبہم اور ناقابل عمل ہونے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے الرٹ عوام میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتے ہیں جو کہ شدت پسندوں کا کام ہے۔
تاہم اس ہفتے چونکہ لاکھوں امریکی ’تھینکس گیونگ‘ کا تہوار منانے کے لیے سفر کر رہے ہیں ایسے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر یہ انتباہ قابل فہم ہے۔







