’سیاہ فام شخص کے ہاتھوں میں ہتھکڑی نہیں تھی‘

منیاپولس میں اس واقعے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمنیاپولس میں اس واقعے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا

امریکی ریاست مینیسوٹا میں منیاپولس پولیس یونین کا کہنا ہے جب ایک غیرمسلح سیاہ فام شخص کو گولی ماری گئی تو اس وقت اس کو ہاتھوں میں ہتھکڑی نہیں تھی اور وہ پولیس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مظاہرین کا کہنا ہے 24 سالہ جامر کلارک پولیس کی حراست میں تھے جب اتوار کو ان پر گولی چلائی گئی۔

جامر کلاک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے روز ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد منیاپولس میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ بدھ کی شب مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کلارک قتل کے کیس میں مشتبہ تھے اور جس وقت ان پر گولی چلائی گئی وہ مقتول کا طبی معائنہ کرنے والے عملے کے کام میں دخل اندازی کر رہے تھے۔

مینیاپولس کی پولیس آفیسرز فیڈریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ باب کرول نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہتھکڑیاں بالکل نہیں تھیں۔‘

شوٹنگ کے اس واقعے کے بعد انتظامیہ اس واقعے پر خاموش رہی۔ بیورو آف کریمنل اپریہنشن کا کہنا تھا کہ یہ تفتیش کا ایک رخ ہے۔

باب کرول کا کہنا تھا کہ کلارک کا ’پرتشد ماضی‘ رہا ہے اور جن دو افسران نے گولیاں چلائی ان کا بدانتظامی کے حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب بدھ کی شب بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اینٹوں سے کچھ افسران کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور سکواڈ کی گاڑیوں کو ’واضح نقصان‘ پہنچا ہے۔

حالیہ چند ماہ میں پولیس کی جانب سے سیاہ فام افراد کو گولی مارنے کے واقعات کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے افریقی امریکی نسل کے افراد کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف تھے۔