امریکی طالبہ کو گھسیٹنے والا پولیس اہلکار برخاست

،تصویر کا ذریعہABC
امریکہ میں ایک سکول کی طالبہ کو بینچ سے کھینچنے اور پھر کلاس روم میں گھسیٹنے والے پولیس اہلکار کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ریاست جنوبی کیرولائنا کے علاقے رچ لینڈ میں پیش آیا تھا اور انٹرنیٹ پر اس کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد امریکی محکمۂ انصاف نے اس کی تحقیقات شروع کی تھیں۔
رچ لینڈ کاؤنٹی کے شیرف لیون لوٹ نے بدھ کو بتایا کہ سینیئر ڈپٹی بین فیلڈز کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
بین فیلڈز سپرنگ ویلی ہائی سکول میں ریسورس افسر تھے جہاں ایک نامعلوم طالبہ کے کلاس چھوڑنے سے انکار پر انھوں نے مذکورہ طالبہ کو مار کر نیچے گرایا اور پھر اسے فرش پر گھسیٹا تھا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد جنوبی کیرولائنا میں امریکی محکمہ انصاف کی ترجمان ڈینا آئی ورسن کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ’گرفتاری کے حوالے سے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا‘ کہ آیا اس عمل سے وفاقی قانون تو نہیں توڑا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جس طلبہ نے اس پورے واقعے کی ریکارڈنگ کی اس نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک لڑکی نے کلاس روم میں موبائل فون نکالا اور اسے واپس رکھنے کے لیے کہنے پر بات ماننے سے انکار کر دیا۔
ٹونی رابنسن نے بتایا کہ اس کے بعد سکول انتظامیہ نے افسر کو بلایا اور ’جب میں نے دیکھا کہ کچھ ہونے والا تو پہلا خیال اسے ریکارڈ کرنے کا آیا ۔۔۔ تاکہ اسے سب دیکھ سکیں اور بات یونہی نہ چلی جائے۔ وہ غلط تھا اور لڑکی کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔‘
فیلڈز نامی افسر کی ذمہ داریوں میں سکول کے طلبا اور اساتذہ کی حفاظت اور انسدادِ جرائم اور انسدادِ منشیات کے اقدامات شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست کی امریکن سول لیبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) کے مطابق کلاس میں نوجوان طلبا کے خلاف ’طاقت کا غلط استعمال‘ بہت ’ظالمانہ‘ عمل تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
شیرف کے دفتر کے مطابق یہ بہیمانہ عمل کرنے والے افسر سفیدفام جبکہ طالبہ سیاہ فام تھیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پولیس کی افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر جانچ پڑتال میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
رچلینڈ سیاہ فام والدین کی ایک ایسوسی ایشن کے مطابق ویڈیو میں ’یہ کُھل کر سامنے آگیا ہے کہ اس ضلع میں طویل عرصے سے بہت سے افریقی نژاد امریکی والدین کو اس قسم کے تجربات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔‘







