اوباما ’حقیقی سیاہ فام صدر‘ نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA
نیوز کارپوریشن کے بانی اور میڈیا کی دنیا کی اہم شخصیت روپرٹ مرڈوک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عندیہ دینا کہ امریکی صدر براک اوباما ’حقیقی سیاہ فام صدر‘ نہیں ہیں کے لیے معافی مانگی ہے۔
رپبلکن پارٹی کے امیدوار بین کارسن کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ ’بین اور کینڈی کارسن لاجواب ہیں۔ کیا ایک اصل سیاہ فام صدر نہیں ہونا چاہیے جو مناسب طریقے سے نسلی تقسیم کا معاملہ حل کر سکے؟‘
روپرٹ مرڈوک نے نیویارک سے نکلنے والے ایک رسالے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کو بھی سراہا جس میں اوباما سے ’اقلیتی برادری کی مایوسی‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔
84 سالہ روپرٹ مرڈوک امریکی ذرائع ابلاغ فاکس نیوز چینل، دا نیویارک پوسٹ اور دا وال سٹریٹ جرنل اور برطانوی اداروں سکائی نیوز، دا سن اور ٹائمز نامی اخباروں کے مالک ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے طاقتور ترین افراد میں ہوتا ہے۔
63 سالہ بین کارسن ریٹائرڈ نیوروسرجن ہیں اور ان کا شمار ان 15 رپبلکن امیدواروں میں سے ہوتا ہے جو سنہ 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخاب لڑنے کی امید رکھتے ہیں۔
مرڈوک اس سے پہلے بھی بین کارسن کی تعریف کر چکے ہیں۔ کچھ دنوں قبل انھوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ہر طرف ماہرین بین کارسن کو کمتر سمجھ رہے ہیں، لیکن عوام عاجزی کو قابلِ تحسین سمجھتی ہے اور ان کے کثیر پہلووں والے موثر پیغام کو سنے گی۔‘
ماضی میں کارسن کے بارے میں مرڈوک کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کامیابیوں، کردار اور وژن میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘
بدھ کے روز انھوں نے ایک بار پھر ٹوئٹر کا رخ کیا:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کچھ دیر بعد انھوں نے پھر ٹویٹ کیا:

،تصویر کا ذریعہbbc
گذشتہ ہفتے بین کارسن نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ کسی مسلمان کو صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ اسلام امریکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔







