فرعونوں کے مزار یا اناج کے گودام

،تصویر کا ذریعہGetty
اس ہفتے امریکہ میں متوقع صدارتی امیدوار بین کارسن کو اس بات پر خاصی تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا کہ مصر کے اہرام دراصل اناج کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کیےگئے تھے۔
دنیا بھر کے سکولوں کے بچے بھی جانتے ہیں کہ اہرامِ مصر دراصل فرعونوں کے مزار ہیں، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ بین کارسن کو یہ خیال کہاں سے آیا کہ زمانہ قدیم میں مصری انھیں گوداموں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
بین کارسن کا یہ بیان بدھ کو اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک ویب سائٹ نے ان کی ایک 17 سال پرانی ویڈیو شائع کر دی جس میں وہ مشیگن یونیورسٹی کے طلبا کے ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اہرام مصر دراصل حضرت یوسف نے تعمیر کیے تھے اور ان کا مقصد اناج کو ذخیرہ کرنا تھا۔
یہ اناج ذخیرہ کرنے کا نظریہ آیا کہاں سے؟
مسیحوں کے عہدنامۂ عتیق یا ’اولڈ ٹیسٹامنٹ‘ کے مطابق حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں نے مصر کے بازار میں فروخت کر دیا تھا، جہاں بعد میں انھوں نے اس وقت کے ایک فرعون کو خوابوں کی تعبیر بتائی اور مصر کے لوگوں کو سات سال طویل قحط کے دوران زندہ رہنے میں مدد دی۔
اگرچہ انجیل میں دی ہوئی حضرت یوسف کی کہانی میں اہرام کا کوئی ذکر نہیں ملتا، تاہم قرونِ وسطیٰ میں لوگوں نے اس کہانی میں قحط کے حوالے سے اہرام کا ذکر بھی کرنا شروع کر دیا تھا۔
امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں شعبۂ مصریات کے پروفیسر جان ڈارنل کہتے ہیں کہ ’اگر آپ اٹلی کے شہر وینس میں سینٹ مارکس کے کلیسا جائیں تو وہاں حضرت یوسف کی کہانی کی تصویری عکاسی کے ایک منظر میں لوگوں کو جیزہ کے تین بڑے اہراموں کو اناج کے ذخیروں کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔‘
’اگر اس وقت لوگ اس قسم کی عمارات بنا سکتے تھے، تو تب بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس منظر میں اہرام کو بطورِگودام استعمال کرنے کا خیال ضرور دکھائی دیتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
اس خیال کی تائید ہمیں چھٹّی صدی کے مشہور پادری سینٹ گریگری کی تحریروں میں بھی ملتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’ ان اہراموں کی بنیادیں چوڑی جبکہ چوٹیاں رنگ ہیں تا کہ ان میں گندم بھرنے کے لیے اوپر سے ایک تنگ راستہ اختیار کیا جا سکے۔ اناج ذخیرہ کرنے والے اہراموں کو آج بھی مصر میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘
اسی طرح 14ویں صدی میں لکھے جانے والے جان مینڈویل کے سفرنامے میں بھی وہ اہراموں کا ذکر کرتے ہوئے ’حضرت یوسف کے ان گوداموں کی بات کرتے ہیں جن میں گندم ذخیرہ کی جاتی تھی۔‘
لیکن پروفیسر ڈارنل کہتے ہیں کہ بعد میں نشاۂ ثانیہ کے دور میں جب لوگوں نے اہرام مصر پر زیادہ تحقیق کرنا شروع کی تو اناج والا نظریہ غیر مقبول ہونا شروع ہو گیا۔
’تاہم آج اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ اہرام دراصل فرعونوں کی قبریں یا مزار ہیں۔ اس طرز پر اہرام سے پہلے کی عمارتوں اور اہرام کے بعد میں رواج پانے والی عمارتوں کو دیکھیں تو آپ کو کوئی شک نہیں رہتا کہ اہراموں کے اندر پُرپیچ راستوں کی روایت پرانی رہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد اناج کو ذخیرہ کرنا نہیں تھا۔‘
’جہاں تک حضرت یوسف کی کہانی کا تعلق ہے تو یہ داستان مصر کی مملکتِ وسط کے دور کی بات ہے، اور جیزہ کے اہرام اس سے کئی صدیاں پہلے تعمیر ہو چکے تھے۔‘
صدارتی امیدوار بین کارسن کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر ڈارنل کہتے ہیں کہ ’ اہراموں کے اندر زیادہ تر پتھر اور اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور اہراموں کے اندر جگہ خاصی تنگ ہے۔ اگر ان کو اناج ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر کیاگیا ہوتا تو اندر جگہ زیادہ ہونی چاہیے تھی کیونکہ ان پر پیچ گلیوں میں اناج کو ذخیرہ کرنا مزدوری اور مہارت کا ضیاع ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہThe Trustees of the British Museum
’اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں اناج کے ذخیرے شہد کی مکھی کے چھتّے کی طرز پر بنائے جاتے تھے اور یہ حجم میں بھی بہت چھوٹے ہوا کرتے تھے۔اس لیے اہرامِ مصر جتنے بڑے یادگاری قسم کے ذخیرے بنانے کی تُک نہیں تھی۔ ان گوداموں کو بھرنے کے لیے بھی ایک طویل عرصہ درکار ہوتا اور جب جب ان سے اناج نکالا جاتا تو وہ اس تیزی کے ساتھ باہرگرتا کہ ارد گرد کھڑے لوگ اس کے نیچہ دب جاتے اور دم گھٹنے سے ہی مر جاتے۔‘
براؤن یونیورسٹی سے منسلک مصریات کے ماہر جیمز ایلن بھی بین کارسن کی بات کو بری طرح رد کرتے ہیں۔ ان کے بقول ’اس بات میں ذرا بھی منطق نہیں ہے کہ اہرامِ مصر جتنی بڑی عمارتوں کو اناج ذخیرہ کرنے کے لیے بنایا جاتا۔ یہ ایسا ہی کہ کل آپ یہ کہنا شروع کر دیں کہ ’ٹاور آف لندن‘ تعمیر کرنے کا مقصد بھی اناج کو ذخیرہ کرنا تھا۔‘







