ترکی کے انتخابات کے لیے ووٹنگ

ترکی میں سکیورٹی اور استحکام کے نام پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترکی میں سکیورٹی اور استحکام کے نام پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

ترکی کے باشندے گذشتہ پانچ مہینے میں دوسری بار پارلیماني انتخابات کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

<link type="page"><caption> ترکی سیاست میں عدم استحکام کے آثار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151030_turkey_elections_atk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ترک انتخابات اور معیشت کی بہتری کے وعدے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151028_turkey_economy_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

اس کے بعد سے اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

ان انتخابات میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ تصادم اور تشدد کی لہر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مبینہ بم حملوں کے پیش نظر سکیورٹی اہم مسئلہ ہے۔

رجب طیب اردوگان نے اپنی پارٹی کے حکومت آنے کے بدلے ملک کو استحکام کا وعدہ کیا ہے۔

سنیچر کو استنبول کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد انھوں نے کہا ’یہ انتخاب ملک میں استحکام اور اعتماد کے لیے ہو رہا ہے۔‘

رجب طیب اردوگان ملک کو صدارتی جمہوریہ بنانا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرجب طیب اردوگان ملک کو صدارتی جمہوریہ بنانا چاہتے ہیں

رجب طیب اردوگان نے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے تاہم ان کے ناقدین نے واضح اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں ان کے ’مطلق العنان ہونے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔‘

اگر اے کے پارٹی ان انتخابات میں بھی تنہا اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ملک کی اہم سیکولرسٹ پارٹی سی ایچ پی یا نیشنلسٹ پارٹی ایم ایچ پی کے ساتھ بات چیت کی میز پر آنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ ترکی کی پارلیمان 550 سیٹوں پر مشتمل ہے اور جون کے انتخابات میں اردوگان نے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی بات کہی تھی تاکہ ملک کو صدارتی جمہوریہ میں تبدیل کر سکے لیکن ان کی پارٹی یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) نے 10 فی صد ووٹ کی سطح حاصل کرکے ان کے ارادوں پر پانی پھیر دیا تھا۔