مطلق العنانیت کےخدشات اردوغان کو لےڈوبے

2003 مسلسل کامیابیاں حاصل کرنے کے عادی طیب اردوگان کو عوامی مینڈیٹ کیسےہضم ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن2003 مسلسل کامیابیاں حاصل کرنے کے عادی طیب اردوگان کو عوامی مینڈیٹ کیسےہضم ہو گا؟
    • مصنف, کاشف قمر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، استنبول

جُوا تو جُوا ہی ہوتا ہے جس میں ظاہر ہے کوئی ایک ہی جیت سکتا ہے ورنہ وہ جُوا کاہے کو کہلائے۔

ترکی میں اتوار کو کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ محض چار برس پہلے جو جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی تقریباً 50 فیصد ووٹوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے بس بال برابر فاصلے پر ہی تھی، اتوار کو دن کے اختتام سے پہلے اپنی پارلیمانی اکثریت سے بھی محروم ہو چکی تھی۔

کردوں کی جماعت ایچ ڈی پی کے بارے میں عمومی اتفاق رائے یہی تھا کہ وہ پارلیمانی نمائندگی کے لیے درکار کم از کم دس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں بس بمشکل ہی کامیاب ہو پائے گی۔ لیکن ایچ ڈی پی نے نہ صرف یہ منزل سر کی، بلکہ خلاف توقع 13 فیصد سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کر لیے۔

لیکن شاید اتوار کے الیکشن کا سب سے غیرمتوقع نتیجہ خود ترک جمہوریت کے لیے سامنے آیا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں صدر رجب طیب اردوغان کی زیادہ سے زیادہ اختیارات کے لیے بڑھتی ہوئی خواہش نے ترک جمہوریت میں ایک ایسی صورت حال پیدا کردی تھی جس میں عوام میں مطلق العنانیت کے خدشات جڑ پکڑتے جا رہے تھے۔

لیکن اِن انتخابی نتائج سے کم از کم ترکی میں فوری طور پر تو صدارتی نظام اور اُس کے ذریعے ایک انتہائی طاقتور صدارت کے اردوغان کے ارادوں کی کامیابی کاکوئی فوری امکان باقی نہیں رہا۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اب اُن کی جماعت کو حکومت بنانے اور اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے بھی دائیں یا بائیں بازو کی کسی پارٹی سے یا کرد جماعت ایچ ڈی پی سے ہاتھ ملانا ہوگا جو اگر بن گئی تو پچھلے 20 برس میں بننے والی پہلی مخلوط حکومت ہو گی۔

لیکن ترک جمہویت کے لیے یہ انتخابات اگر ایک طرف بہت اچھا شگون ہیں تو دوسری جانب اتوار کے نتائج نے ایک نئی سر دردی بھی پیدا کردی ہے اور وہ یہ کہ کیا ملک میں کوئی مستحکم حکومت بن سکے گی؟

حکمران جماعت جسٹس ڈیویلپمنٹ کے تینوں بڑے مخالفین یعنی سی ایچ پی، ایم ایچ پی اور کردوں کی پارٹی ایچ ڈی پی تینوں نے ہی الیکشن مہم کے دوران واضح طور پر اے کے پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امکانات مسترد کر دیے تھے۔

خود اپوزیشن کے اندر دائیں بازو کی انتہائی قوم پرست جماعت ایم ایچ پی اور بائیں بازو کی کرد جماعت ایچ ڈی پی کا جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے خلاف کسی ممکنہ مخلوط حکومت میں شمولیت کا امکان صرف صفر فیصدکے برابر ہے۔

اور اگر یہ ممکن ہوجائے تو بھی اپنے منشور پر عمل درآمد کی بنیاد کے بجائے صرف اے کے پارٹی کی مخالفت پر قائم ہونے والی حکومت شاید ہی قائم رہ پائے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب سب سے بڑی جماعت بھی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی اور اُس کے تمام مخالفین بھی یکجا نہیں رہ سکتےتو ہوگا کیا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایک الیکشن والے دن ہی مبصرین نے جلد ہی دوسرے الیکشن کے امکانات پر بات کرنا شروع کردی ہے۔

شاید صدر رجب طیب اردوغان کی امید بھی یہی ہوگی کہ جلد ہی اگلے انتخابات ہوں اور وہ پھر صدر کا عہدہ چھوڑ کر اس مرتبہ ایک بار وزیراعظم بننے کا جوا کھیل جائیں۔

جوا تو جوا ہی ہے کہ آج ہارنے والا کل جیت جانے کی امید پر نیا داؤ بھی کھیل جاتا ہے۔