کامیابیوں کےعادی اردوگان پر کڑا وقت

رجب طیب اردوگان نے متوسط اور نچلے طبقات پر توجہ مرکوز کر کے ترکی کی سیاسی اشرافیہ کو پے پے دے پے شکستوں سےدوچار کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرجب طیب اردوگان نے متوسط اور نچلے طبقات پر توجہ مرکوز کر کے ترکی کی سیاسی اشرافیہ کو پے پے دے پے شکستوں سےدوچار کیا
    • مصنف, کاشف قمر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، استنبول

کہتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان خود اپنی ہی کامیابیوں کا اسیر ہوجاتا ہے۔ اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے اس وقت ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان ایک اچھی مثال ہوسکتے ہیں۔

چودہ برس پہلے جب انھوں نےجسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی قائم کی تھی تو شاید خود ان کے وہم و گمان میں بھی وہ کامیابیاں نہیں ہوں گی جو اب تک انھیں اور ان کی جماعت کو مل چکی ہیں۔

اردوگان سن انیں سو چورانوے میں استنبول شہر کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ محض چار برسوں میں انھوں نے شہر میں جتنے اور جس قدر تیز ترقیاتی کام کیے، انھی نے ہی اردوگان کے سیاسی مستقبل کا تعین کیا۔

مختلف فوجی ادوار میں پروان چڑھنے والی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی اشرافیہ کے برعکس رجب طیب اردوگان نے متوسط اور نچلے طبقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی پالیسیاں ترتیب دیں۔ سستی روٹی کی سیاسی لحاظ سے غیرمعمولی کامیاب لیکن مہنگی پالیسی اس کی ایک مثال تھی۔

اردوگان سیاسی طور پر اُس وقت نجم الدین اربکان کی اسلام پسند جماعت ویلفئیر پارٹی سے ضرور وابستہ تھے لیکن بہت تیزی سے اپنا الگ تشخص قائم کررہے تھے۔

اربکان اور اُن کی جماعت پر پابندی کے بعد سن دوہزار دو کے الیکشن سے محض ایک سال پہلے انھوں نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی یا اے کے پی قائم کی لیکن انتخابات میں لگ بھگ پینتیس فیصد ووٹ لے کر نہ صرف سیاسی مبصرین کو حیران کردیا حالانکہ خود اُس وقت اُن پر ویلفئیر پارٹی سے وابستگی کے الزام میں الیکشن لڑنے پر پابندی تھی۔ پہلے اُس وقت اُن کے قریبی معتمد عبداللہ گل وزیراعظم بنے اور حکومت نے جب اگلے برس اردوگان پر عائد پابندی ختم کی تو اردوگان وزیراعظم بن گئے۔ انھوں نے اس کے بعد شاید کبھی پیچے مڑ کر دیکھا نہیں۔

طیب اردوگان کے دور میں ہونے والی ترقی نے ترکی کو دنیا کی سترویں بڑی معیشت بنا دیا

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنطیب اردوگان کے دور میں ہونے والی ترقی نے ترکی کو دنیا کی سترویں بڑی معیشت بنا دیا

سن دو ہزار سات اور دوہزار گیارہ میں ہر بار ان کی جماعت کی مقبولیت بڑھتی رہی اور پچھلے الیکشن میں تو اے کے پی نے تقریباً پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے اور محض چھ نشستوں کے فرق سے دو تہائی اکثریت حاصل نہ کرسکے۔

ترک آئین کے مطابق تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کوئی شخص کتنی مرتبہ وزیراعظم بن سکتا ہے لیکن جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے اپنے تاسیسی آئین میں یہ پابندی عائد کردی تھی کہ کوئی بھی شخص ایک عہدے کے لیے، چاہے وقفے وقفے سے یا لگاتار، صرف تین بار منتخب ہوسکتا ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ اپنے قیام کے وقت اردوگان یا اُن کے ساتھیوں کو یہ شبہہ ہی نہ ہو کہ کبھی یہی قدغن خود اردوگان کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔

سن دو ہزار سات میں سیاسی شور شرابے کے باوجود انھوں نے عبداللہ گل کو صدر منتخب کرا دیا جو ترکی کے آخری باالواسطہ منتخب صدر رہے۔ سن دو ہزار بارہ میں آئینی ترمیم کے کے ذریعے اردوگان نے ملک میں براہ راست صدارتی انتخاب کی راہ ہموار کی۔

ِاس سے پچھلے برس وہ تیسری بار وزیراعظم منتخب چکے تھے اور اپنی اور جماعت کی غیرمعمولی مقبولیت کے باوجود اے کے پی کے دستور کے تحت اگلی مدت کے لیے وزارت عظمٰی کا انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے۔

انھوں نے اِس مشکل کا حل یہ نکالا کہ اولاً جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے دستور میں سےیہ پابندی ختم کرا دی۔ تاہم تیرہ برس تک اقتدار میں رہنے کے باعث خود پارٹی کے اندر بھی ان کے خلاف اب آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صرف اتنی ہی ترمیم کراسکے کہ تین مرتبہ سے زیادہ بار وزارت عظمٰی کا انتخاب لڑنے کے لیے وقفہ ضروری ہے۔ اسی سبب جب سن دوہزار چودہ میں صدارتی انتخاب کا وقت آیا تو اُن کے پاس دو ہی راستے بچے تھے۔

اول یہ کہ وہ وزارت عظمٰی کی تیسری مدت پوری کریں اور سن دو ہزار پندرہ میں وزارت عظمٰی سے علیحدہ ہوکر وقفہ دیں۔ اِس میں خطرہ یہ تھا کہ اُن کی جگہ وزیراعظم بننے والا اگر اُن سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا تو اُن کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ جب وہ وزیراعظم نہیں رہیں گے تو شاید جماعت پر بھی اُن کی گرفت اور ڈھیلی پڑ جائے۔

دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ وزارت عظمٰی چھوڑ کر صدارتی انتخاب لڑیں اور اپنی مقبولیت کے سہارے آئین میں ترمیم کرکے صدارتی نظام رائج کردیں اور اختیارات اپنے ہی پاس رکھیں۔ انھوں نے اِس دوسرے راستے کا ہی انتخاب کیا ہے۔

وزیر اعظم داؤد اوغلو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندوتہائی اکثریت نہ حاصل کرنے کی صورت میں صدر طیب اردوگان علامتی سربراہ مملکت رہ سکیں گے

لیکن سیاست کی مشکل یہ ہے کہ یہ امکانات اور غیریقینی عوامل کا کھیل ہے۔ اردوگان بھی اسی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اُن کے مخالفین موجودہ صورتحال میں اپنے لیے امکانات اور شاید خود صدر اردوگان غیریقینی ہی دیکھ رہے ہیں۔

ترک سیاست کی ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اِس وقت امکانات اور غیریقینی دونوں کا ہی محور ہے پہلی بار الیکشن لڑنے والی کرد جماعت ایچ ڈی پی۔

ایک صورتحال تو یہ ہے کہ اے کے پارٹی یا تو سیدھے سیدھے دو تہائی اکثریت حاصل کرلے اور اردوگان صدارتی نظام نافذ کرکے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ یا پھر اُن کی جماعت تین سو تیس نشستیں حاصل کرکے کے صدارتی نظام پر ریفرینڈم کرانے کے قابل ہوجائے اور اردوگان اپنا مقصد ذرا طویل راستے سے حاصل کرلیں۔

لیکن اگر اتوار کے روز ایچ ڈی پی نے پارلیمانی نمائندگی کے لیے قومی سطح پرکم از کم درکار دس فیصد ووٹ حاصل کرلیے تو اے کے پارٹی یقینی طور پر دو تہائی اکثریت بلکہ شاید ریفرینڈم کرانے کی اہلیت کے حصول سے بھی محروم ہوجائے گی۔ اور ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ رجب طیب اردوگان کی جماعت الیکشن جیت کر حکومت تو بنا لے لیکن ان کی تیرہ برس کی سیاسی کامیابیوں کا پھل آئندہ چار برس احمد داؤد اوغلو یا کوئی اور کھائے اور اردوگان علامتی سربراہ مملکت کے طور پرصدارتی محل میں کڑھتے رہ جائیں۔

تیرہ برس پہلے شاید رجب طیب اردوگان نے اتنی دور کی نہیں سوچی تھی۔