بحرین میں شاہ کی تصویر پھاڑنے والی کارکن کو ایک سال قید

،تصویر کا ذریعہAP
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بحرین کی اعلیٰ عدالت نے اس سیاسی کارکن کو ایک برس قید کی سزا سنائی ہے جس نے عدالت میں ملک کے بادشاہ کی تصویر پھاڑ دی تھی۔
کمرہ عدالت میں تصویر پھاڑنے کا یہ واقعہ سنہ 2014 کا ہے۔
بحرین کی اپیل عدالت نے زینب الخواجہ کو شاہ کی توہین کرنے کا قصوروار ٹھہرانے کے نچلی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کی لیکن اس مقدمے میں نچلی عدالت کی جانب سے تین برس قید کی سزا کو کم کرکے ایک برس کر دیا۔
عدالت نے زینب پر تین ہزار بحرینی دینار کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے اور اگر وہ جرمانے کی یہ رقم نہ ادا کر پائیں تو ان کی سزا میں ڈیڑھ برس کا اضافہ ہو جائے گا۔
اس معاملے پر بحرین کے محکمہ عدالت کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
32 سالہ زینب الخواجہ بحرین کے سرکردہ سیاسی کارکن عبدالہادی الخواجہ کی بیٹی ہیں جو اس وقت جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
2011 میں جمہوریت حامی مظاہروں میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے عبدالہادی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
2011 سے بحرین میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے آغاز سے اب تک زینب کئی بار گرفتار ہوئی ہیں اور جیل گئی ہیں اور اس معاملے میں وہ پہلے ہی تقریباً ایک برس قید کی سزا کاٹ چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت انھوں نے تین دیگر معاملات میں سزا کے خلاف اپیل دائر کر کھی ہے۔ مظاہروں کے دوران تصویر پھاڑنے کا اسی نوعیت کا ایک اور معاملہ بھی ہے جس کے لیے انھیں چار ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ان پر جیل میں والد سے ملاقات کرنے کی کوشش کے دوران ایک حکومتی افسر کے ساتھ بدسلوکی کا مقدمہ بھی درج کیا گيا تھا جس میں انھیں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
بحرینی عدالت کا یہ فیصلہ ان کی 32ویں سالگرہ کے موقعے پر آیا ہے اور اس مناسبت سے ان کے حامی دیگر سیاسی کارکنان نے اس جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جو ’ہیپی برتھ ڈے زینب‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جاری ہے۔
زینب کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر انھیں جیل جانا پڑا تو وہ اپنے کم سن بچے کو قید خانے میں ساتھ رکھیں گی۔







