بحرین: اپوزیشن رہنما کو چار سال قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہafp getty
بحرین کی ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کے مرکزی شیعہ رہنما شیخ علی سلمان کو تشدد پر اکسانے کے لیے چار سال قید سنا دی گئی ہے۔
شیخ سلمان کو پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے، نافرمانی کو بڑھاوا دینے اور ریاستی اداروں کی ہتک کرنے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔
شیخ سلمان کی الوفاق موومنٹ نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ شیخ سلمان کو سزا دے کر اس نے ملک میں جاری بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
بحرین میں 2011 سے بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب شیعہ آبادی نے مظاہروں کا آغاز کیا۔
شیخ سلمان کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں مظاہرے کیے گئے۔
الوفاق نے ٹویٹ میں کہا ’بحرین کے حزب اختلاف کے رہنما شیخ علی سلمان کو چار سال قید کی سزا سنا کر ملک میں جاری بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY IMAGES
بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی این اے کے مطابق شیخ سلمان پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے، نافرمانی کو بڑھاوا دینے اور ریاستی اداروں کی ہتک کرنے پر سزا دی گئی ہے۔
شیخ سلمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس سزا کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شیخ سلمان کو تشدد کے ذریعے سیاسی تبدیلی لانے کے الزام سے بری کردیا جس کے تحت ان کو عمر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیخ سلمان کے وکیل عبداللہ الشملاوی کا کہنا ہے کہ شیخ سلمان اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔
شیعہ اکثریتی بحرین میں شیعہ آبادی پچھلے چار سالوں سے سنی پادشاہت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔
2011 میں درجنوں افراد اس وقت مارے گئے جب حکومت نے مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی۔ شیعہ آبادی اپنے لیے مزید حقوق اور سنی شاہی خاندان کی جانب سے شیعہ آبادی کے خلاف معتصابانہ رویے کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔







