حرم الشریف میں عالمی مبصرین کی ضرورت نہیں: جان کیری

ہم کوئی بھی نئی تبدیلی نہیں چاہ رہے ہیں اور نہ ہی باہر سے کسی کو لانے کی خواہش رکھتے ہیں: جان کیری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہم کوئی بھی نئی تبدیلی نہیں چاہ رہے ہیں اور نہ ہی باہر سے کسی کو لانے کی خواہش رکھتے ہیں: جان کیری

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے مرکز اور یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس مقام حرم الشریف میں عالمی مبصرین کی تعیناتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے دورے سے قبل پیر کو ہسپانوی شہر میڈرڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مبصرین کی تعیناتی کی بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل اس علاقے میں ’سٹیٹس کو‘ برقرار رکھنے کے وعدوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔

خیال رہے کہ فرانس نے جمعے کو خطے کی صورت حال پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں حرم الشریف کے علاقے کی غیرجانبدارانہ عالمی نگرانی کی تجویز دی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جان کیری کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی تبدیلی پر غور نہیں کر رہے اور نہ ہی اسرائیل کو ایسا کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی اہمیت سمجھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کوئی سمجھے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔

’ہم کوئی بھی نئی تبدیلی نہیں چاہ رہے ہیں اور نہ ہی باہر سے کسی کو لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری خود بھی مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور صورت حال کو معمول پر لانے کی امریکی کوششوں کے تحت اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔

حرم الشریف میں حالیہ کشیدگی ان افواہوں کے بعد شروع ہوئی تھی کہ اسرائیل اس علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ پہلے سے طے شدہ انتظامات میں کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ موجودہ انتظامات کے تحت یہودیوں کو حرم الشریف میں داخلے کی اجازت تو ہے لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کر سکتے۔