گوئٹے مالا: لینڈ سلائیڈنگ سے 73 افراد ہلاک

بچے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلینڈ سلائیڈ میں مرنے والوں میں کئی چھوٹے بچے بھی ہیں

لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا میں حکام نے کہا ہے کہ ایل كیمبرے گاؤں کے مکانوں پر مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔

یہ مقام دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں تقریباً 350 افراد چٹانوں اور مٹی کے تودوں تلے لاپتہ ہیں۔

جمعرات کی شب لگاتار تیز بارش کے نتیجے میں وادی میں موجود گھروں پر کئی ٹن مٹی کے تودے اور چٹانیں گر گئی تھیں۔

امدادی ٹیمیں جاسوس کتوں کی مدد سے ملبے کے نیچے پھنسے زندہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق ابھی بھی ساڑھے تین سو افراد لاپتہ ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ابھی بھی ساڑھے تین سو افراد لاپتہ ہیں

ایک سرکاری ترجمان جولیا بریرا نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے اب تک 26 افراد کو بچا لیا ہے۔

جائے حادثہ پر ایک ہزار سے زیادہ تعداد میں امدادی کارکن موجود ہیں اور مرنے والوں کی تدفین کر رہے ہیں۔

گوئٹےمالا کی ہنگامی سروسز کونریڈ کے ترجمان جولیو سانچیز نے کہا ہے کہ امریکہ اور میکسیکو نے امداد کی پیشکش کی ہے لیکن انھیں ضرورت پڑنے پر استعمال کے لیے روک کر رکھا گیا ہے۔

ایک امدادی کارکن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی 72 گھنٹوں کے بعد زندہ بچنے والوں کی امید کم ہے اور مٹی کے تودے تلے دبے لوگوں کے بچنے کے امکان زلزلے کی زد میں آنے والوں سے کم ہوتے ہیں۔

سینکڑوں امدادی کارکن لوگوں کی تدفین میں مدد کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسینکڑوں امدادی کارکن لوگوں کی تدفین میں مدد کر رہے ہیں

حکام کے مطابق امدادی کاموں میں مزید تیز بارش کے امکانات اور اس خطے کا غیر ہموار ہونا رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایل كیمبرے ڈھال والی پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اور وہاں کے زیادہ تر گھر وادی کے نچلے حصے میں ہیں۔

مقامی حکام نے تیز بارش کے نتیجے میں غیر مستحکم پہاڑیوں کے گرنے کے بارے میں پہلے سے متنبہ کر رکھا تھا۔

گوئٹےمالا ان ممالک میں شامل ہے جہاں قدرتی آفات سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

جمعرات کو لگاتار تیز بارش کے نتیجے میں وادی میں موجود گھروں پر کئی ٹن مٹی کے تودے اور چٹانیں گر گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجمعرات کو لگاتار تیز بارش کے نتیجے میں وادی میں موجود گھروں پر کئی ٹن مٹی کے تودے اور چٹانیں گر گئی تھیں