جرمنی میں زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمنی میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں درجنوں پناہ گزین زہریلی کھمبیاں کھانے کے باعث بیمار ہوگئے ہیں۔
ایسے ہی ایک واقعے میں ایک 16 سالہ شامی نوجوان زہریلی کھمبی کھانے کے بعد ہلاک ہوگیا۔
<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کی یادگار تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150929_migrants_stories_bbc_corrospondents_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> یورپ میں پناہ کے متلاشیوں کو نئے راستوں کی تلاش</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150919_eu_migration_balkan_routes_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’یورپ میں ذلت کےسوا کچھ نہیں ملےگا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150919_isis_video_migrant_ua.shtml" platform="highweb"/></link>
زہریلی کھمباں کھانے سے بیمار ہونے کے اطلاعات کے بعد جرمنی میں پناہ گزینوں کے کیپموں میں اس کے خطرات سے متعلق آگہی کے پوسٹر تقسیم کیے گئے ہیں۔
ماہر علم سمیات کا کہنا ہے کہ جرمنی میں یہ کھمبیوں کی زہریلی ترین قسم ہے۔
ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ متعدد افراد نے امنیٹا فلوئڈز نامی زہریلی کھمبیوں کو کھانے کے قابل کھمبی کی قسم سمجھ لیا تھا جس کا شام میں عام استعمال کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمن مائیکولوجیکل سوسائٹی کے ماہر پروفیسر سیگمر برنڈٹ نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ’میں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں اتنی زہریلی کھمبیاں نہیں دیکھی جتنی اس سال ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ زہریلی کھمبیوں کا شکار بننے والے بیشتر افراد پناہ گزین اور پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد ہیں، ان میں زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے۔
اطلاعات ہیں کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں کے قریب جنگلوں میں یہ کھمبیاں اکٹھی کی گئی، پناہ گزینوں کے خیال میں یہ کھمبیاں ان کے آبائی علاقے میں پائی جانے والی کھمبیوں جیسی ہی تھیں۔
’ڈیتھ کیپ‘ کے نام سے جانے جانے والی ایسی ہی زہریلی کھمبی کھانے سے 16 سالہ شامی نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھمبی کھانے کے بعد اس کی علامات اتنی شدید تھیں کہ اس کے جگر کی پیوندکاری ناگزیر ہوگئی تھی تاہم بروقت متبادل جگر دستیاب نہ ہو سکا۔
اب جرمنی میں کھمبیوں کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین پناگزینوں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں انھوں نے ملک بھر میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں پوسٹرز تقسیم کیے ہیں۔







