عالمی رہنما بند آنکھوں سے شامی پاتال میں

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, چارلز لسٹر
- عہدہ, وزٹنگ فیلو، بروکنگز دوحا سینٹر
شام ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں ہے۔
جیسے جیسے لاکھوں کی تعداد میں مایوس شامی یورپ کی طرف ایک خطرناک سفر اختیار کر رہے ہیں، مغرب میں پالیسی سازوں کو نئے اور غیر متوقع نتائج کا سامنا ہے کیونکہ وہ شام کے اس بحران کا کوئی متفقہ حل نکالنے میں ناکام رہے ہیں، جس میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک اور ایک کروڑ دس لاکھ بےگھر ہوگئے ہیں۔
اس تنازعے کے دوران روس پچھلے 18 ماہ میں دوسری جارحانہ فوجی کارروائی شروع کرنے والا ہے۔ تین ہفتوں کے عرصے میں ماسکو شمال مغربی شام میں کم از کم 18 لڑاکا طیارے، 14 ہیلی کاپٹر، درجنوں ٹینک، اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم اور 2000 فوجی جمع کر چکا ہے۔
روس کے اس دعوے کو بھی جھوٹ سمجھا جا رہا ہے کہ اس کی افواج وہاں صرف خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کو نشانہ بنانے کے لیے موجود ہیں۔
ماسکو کا یہ کھلے عام یہ دعویٰ جہادیوں کے لیے یقیناً ناپسندیدہ ہے، کہ شام کی تمام حکومت مخالف طاقت مسلح ہے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
جبکہ القاعدہ، دولت اسلامیہ اور دوسرے ہم خیال گروہوں نے شام میں ایک طاقتور حیثیت حاصل کر لی ہے، اس طرح کے وسیع اندازے بظاہر جھوٹ ہی لگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدقسمتی سے روس کی مداخلت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی شام پر پالیسی کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس سال جولائی کے آخر میں اس کے پہلے ’تربیت یافتہ اور سازو سامان سے لیس‘ شامی باغیوں کے دستے کے القاعدہ کے ہاتھوں اغوا، قتل اور بھاگنے پر مجبور ہونے کے بعد ایک اور دستے نے چند روز قبل شام میں داخلے کے بعد اپنی تقریباً نصف گاڑیاں اور ایک چوتھائی اسلحہ القاعدہ کے حوالے کر دیا ہے۔
اس مشن کو بدترین ناکامی کہنا غلط نہ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس دوران امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی شام کی حقیقت سے خطرناک حد تک لاتعلق رہے۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے دھمکیوں کو ایک آسان جواز بنا لیا گیاہے جبکہ باقی ملک میں رونما ہونے والے پیچیدہ معاملات کو لگتا ہے کہ یا تو نظر انداز کیا گیا ہے یا ان کو سمجھا نہیں گیا۔
یہ لاتعلقی امریکہ اور یورپی پالیسی سازوں کے اس حالیہ بیان سے واضح ہو جاتی ہے جس میں انھوں نے کہاہے کہ اب وہ بشارالاسد کی فوری رخصتی کو شام کے بحران کے حل کا اہم حصہ قرار نہیں دیتے۔
ممکن ہے کہ ایک عام شخص کو اس میں کوئی منطق نظر آئے، لیکن یہ بیان اس حقیقت سے انکار ہے جس میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب جنگجو اسد حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انھوں نے عہد کیا ہوا ہے کہ وہ اسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے تک یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
ان حالیہ جغرافیائی اور سیاسی سازشوں کے درمیان اس حقیقت کو یا تو بھلادیا گیا ہے یا جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے کہ:’اسد کبھی بھی دولت اسلامیہ کا بہتر نعم البدل نہیں ہوسکتے۔‘
اس تنازعے کے پہلے دن ہی سے اسد اور ان کے خفیہ ادارے جہادیوں کے ابھارنے میں مستقل مدد کرتے رہے ہیں۔ دمشق کے مفادات کے لیے مسلح جہادیوں کی مدد کرنے کی پالیسی اسد خاندان کا خاصہ رہی ہے، خاص طور پر 90 کی دہائی سے۔
2011 میں القاعدہ کے درجنوں قیدیوں کو رہا کرکے اسد نے موجودہ اسلامی بغاوت کو پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔ اس کے بعد سے جان بوجھ کر دولت اسلامیہ کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی پالیسی سے اسد نے بلاواسطہ گروہ کی بحالی اور ان کی موجودہ نام نہاد بین الملکی خلافت کے قیام کو آسان بنا دیا ہے۔
اس دوران، اسد حکومت نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو قتل کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی، پہلے فضائی حملوں اور بیلسٹک میزائلوں سے اور پھر بیرل بم اور کیمیائی ہتھیاروں کے ناجائزاستعمال کے ذریعے۔
بشار الاسد نے قید اور ظلم کی پیشہ ورانہ کارروائیوں کے ذریعے اپنے ہی شہریوں کی آباد ی ختم کرنے کی پالیسی ختیار کی جبکہ کمزور لوگوں پر قرون وسطیٰ کی طرز کی درجنوں پابندیاں لگا دیں۔ وہ مستقل اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں اور ذرائع کے مطابق 2011 سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار شہریوں میں سے 95 فیصد کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔
دولت اسلامیہ ابھی بھی شام میں ایک طاقتور گروہ ہے اور اس سے نمٹنا ضروری ہے لیکن خوف کے سوداگروں کے خیال کے برعکس دولت اسلامیہ مستقل قریب میں دمشق پر چڑھائی کا کوئی ارداہ نہیں رکھتے۔ القاعدہ بھی طویل عرصے سے ایک خطرہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن آخر میں شام کے بحران کی جڑیں اسد اور ان کی حکومت سے یہ جا ملتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حالانکہ یہ ایک مشکل امر ہے لیکن یہ عالمی برادری کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ وہ شام کے مسئلے کا حل نکالیں جو وہاں ایک پائیدار امن کا ضامن ہو۔ اس کے لیے نہایت ایمانداری کے ساتھ شام کے تمام حلقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، جس میں مسلح مخالف گروہ بھی شامل ہیں۔ ان تمام حلقوں کے خیالات اور تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ممکنہ حل نکالا جا سکتا ہے۔
یہ مقبول رائے درست نہیں ہے کہ شام کے مسلح مخالف گروہوں میں بھی تفریق ہے پائی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ پچھلے سال ان گروہوں نے اپنا کافی وقت ایک واضح اور متحد سیاسی نظریہ وضع کرنے میں صرف کیا۔ ان میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے درجنوں دھڑے شامل نہیں تھے بلکہ وہ تمام مسلح گروہ شامل تھے جن کے ارکان اور قیادت کا تعلق اور کارروائیوں کا دائرۂ کار شام کی حدود کے اندر تھا۔
ان گروہوں کی تعداد تقریباً 100 کے قریب ہے۔ اس خوف کے پیش نطر کہ ان کو ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے سے الگ نہ کر دیا جائے، ان میں سے کئی زیادہ طاقتور مسلح گروہ حکومت سے ایک متحد ’سیاسی دفتر‘ کے قیام کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
مغربی حکومتیں اس مسلح مخالفت کے خطرے کو اپنی ہی ذمہ داری پر نظر انداز کر رہی ہیں۔
جبکہ اسد کی بقا کے لیے روس اور ایران کی شرائط کو ماننا اور شام کی ایک ممکنہ بلکہ یقینی تقسیم شاید قابل عمل ہو، لیکن یہ حل بحران کو محض طویل اور شدید کرے گا اور خطے میں جہادہوں کی کارروائیوں کو مزید ہوا دے گا جس کے نتائج کے بارے میں ہم سوچ ہی نہیں رہے۔
شام کے بہت سے مہاجرین یورپ میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے خوف سے نہیں بلکہ اسد کے قتل و غارت سے پناہ حاصل کرنے لے لیے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔
مارچ 2011 میں جب شامیوں نے پہلی مرتبہ اسد حکومت کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کیے، تب سے ہی مغرب کا ردعمل کمزور اور غیر پابند نظر آتا ہے۔ لیکن دنیا کو اس وقت واقعی ایک حقیقی رہنما کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے رہنما بند آنکھوں کے ساتھ کسی پاتال میں چل رہے ہیں۔







